ہوئے احکامات اور اس کی روشن تعلیمات کی خبر تک نہیں ہے حتّٰی کہ صرف قرآنِ مجید کا عربی متن پڑھنے کا کہا جائے تو وہ تک انہیں صحیح پڑھنا نہیں آتا،گھروں میں ہفتوں اور مہینوں قرآنِ مجید سنہری کپڑوں میں ملبوس پڑا رہتا ہے اور موقع ملنے پر اس سے گَرد وغیرہ کی تہ صاف کر کے دوبارہ اسی مقام پر رکھ دیا جاتا ہے ۔اے کاش!
درسِ قرآں ہم نے نہ بھلایا ہوتا یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا
دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت سے گلہ
فریاد ہے اے کشتیِ اُمت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
اس آیت ِمبارکہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی حالت پر غور کر لے کہ ا س نے قرآنِ مجید کا کتنا حق ادا کیا،قرآن کی کیا تعظیم کی ، اس نعمت کا کتنا شکر بجا لایا اور اس کے احکامات اور تعلیمات پر کس قدر عمل کیا۔
وَ سْــٴَـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠(۴۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور اُن سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے کیا ہم نے رحمن کے سوا کچھ اَور خدا ٹھہرائے جن کو پوجا ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورجو ہم نے تم سے پہلے اپنے رسول بھیجے ان سے پوچھو کہ کیا ہم نے رحمن کے سوا کچھ اور معبود مقرر کئے ہیں جن کی عبادت کی جائے۔
{وَ سْــٴَـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ: اور جو ہم نے تم سے پہلے اپنے رسول بھیجے ان سے پوچھو۔} بعض مفسرین نے فرمایا کہ رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے سوال کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اُن کے اَدیان اور ان کی ملتوں کو تلاش کرو کہ کیا کہیں بھی اور کسی بھی نبی کی اُمت میں بت پرستی روا رکھی گئی ہے؟ اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ اہلِ کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے ان سے دریافت کرو کہ کیا کبھی کسی نبی نے غَیْرُاللہ کی عبادت کی اجازت