Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
135 - 764
کرتے رہیں  بے شک آپ اس دین پر ہیں  جس میں  کوئی ٹیڑھا پن نہیں ۔( تفسیرکبیر، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۴۳، ۹/۶۳۴، مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۱۱۰۱، ملتقطاً)
	قرآنِ مجید میں  اور مقامات پر بھی نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قرآنِ پاک کے احکامات کی پیروی کرتے رہنے کاحکم دیا گیا اور آپ کے سیدھی راہ پر ہونے کے بارے میں  بیان فرمایا گیاہے،چنانچہ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اِتَّبِـعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ‘‘(انعام:۱۰۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے ،اس کے سوا کوئی معبود نہیں  اور مشرکوں  سے منہ پھیر لو۔
 	اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سیدھی راہ پر ہونے کے بارے میں  ارشاد فرمایا:
’’اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ‘‘(حج:۶۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تم سیدھی راہ پر ہو۔
	اور حضورِاَ قدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نہ صرف خود سیدھے راستے پر ہیں  بلکہ سیدھے راستے کے راہنما بھی ہیں ،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘‘(شوریٰ:۵۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک تم ضرور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہو۔
وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَۚ-وَ سَوْفَ تُسْــٴَـلُوْنَ(۴۴)
ترجمۂکنزالایمان:  اور بیشک وہ شرف ہے تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور(اے حبیب!) بیشک یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کیلئے شرف وبزرگی ہے اور (اے لوگو!)