Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
132 - 764
آئے گا تووہ شیطان کو مُخاطَب کر کے کہے گا:اے میرے ساتھی! اے کاش! میرے اور تیرے درمیان اتنی دوری ہو جائے جتنی مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے کہ جس طرح وہ اکٹھے نہیں  ہو سکتے اور نہ ہی ایک دوسرے کے قریب ہو سکتے ہیں  اسی طرح ہم بھی اکٹھے نہ ہوں  اور نہ ہی ایک دوسرے کے قریب ہوں  اورتو میرا کتنا ہی برا ساتھی ہے۔( جلالین مع صاوی، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۳۸، ۵/۱۸۹۵-۱۸۹۶)
	حضرت سعید جریری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ قیامت کے دن جب کافر کو اس کی قبر سے اٹھایا جائے گا تو شیطان اس کا ہاتھ تھام لے گا،وہ شیطان اس کے ساتھ ہی رہے گا یہاں  تک کہ اللہ  تعالیٰ دونوں  کو جہنم میں  جانے کا حکم فرما دے گا،اس وقت کافر کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے توتُو کتنا ہی برا ساتھی ہے۔ (تفسیرطبری، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۳۸، ۱۱/۱۸۹)
وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ(۳۹)
ترجمۂکنزالایمان:  اور ہرگز تمہارا اس سے بھلا نہ ہوگا آج جبکہ تم نے ظلم کیا کہ تم سب عذاب میں  شریک ہو۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آج ہرگز تمہیں  یہ چیزنفع نہیں  دے گی کہ تم سب عذاب میں  شریک ہوجبکہ تم نے ظلم کیا۔
{وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ: اور آج ہرگز تمہیں  یہ چیز نفع نہیں  دے گی۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے دنیا میں  اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کرنے والو! تمہارا یہ حسرت و افسوس کرناآج ہرگز تمہیں  نفع نہیں  دے گا کیونکہ آج ظاہر اور ثابت ہوگیا کہ دنیا میں  شرک کرکے تم نے اپنے اوپر ظلم کیا ،اب تم اور تمہارے ساتھی شَیاطین سب اسی طرح عذاب میں  شریک ہیں  جیسے دنیا میں  اکٹھے تھے۔
	دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے کافرو!تمہارا اور تمہارے ساتھی شیطانوں  کا عذاب میں  اکٹھے ہونا آج تمہیں  ہر گز نفع نہیں  دے گا اور نہ ہی تم سے کچھ عذاب ہلکا کیا جائے گا کیونکہ کفار اور ان کے شیطانوں  میں  سے ہر ایک کے لئے اپنا اپنا عذاب کا وافر حصہ ہے۔ (خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۳۹، ۴/۱۰۶، جلالین، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۴۰۸، ملتقطاً)