وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ(۳۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک وہ شیاطین ان کو راہ سے روکتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک وہ شیاطین ان کو راستے سے روکتے ہیں اوروہ یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
{وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ: اور بیشک وہ شیاطین ان کو راستے سے روکتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک وہ شَیاطین قرآنِ پاک سے منہ موڑنے والوں کو اس راستے سے روکتے ہیں جس کی طرف قرآن بلاتا ہے اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ گمراہ ہونے کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔( ابوسعود، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۳۷، ۵/۵۴۳، ملخصاً) تو جس کی گمراہی کا یہ حال ہو ا س کے راہِ راست پر آنے کی کیا امید کی جا سکتی ہے۔
حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ(۳۸)
ترجمۂکنزالایمان: یہاں تک کہ جب کافر ہمارے پاس آئے گا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورب پچھم کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی بُرا ساتھی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہاں تک کہ جب وہ کافر ہمارے پاس آئے گا تو(اپنے ساتھی شیطان سے )کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے تو (تُو) کتنا ہی برا ساتھی ہے۔
{حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا: یہاں تک کہ جب وہ کافر ہمارے پاس آئے گا۔} یعنی قرآن سے منہ پھیرنے والے کفار، شیطان کے ساتھی ہوں گے یہاں تک کہ جب قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی شیطان کے ساتھ ہمارے پاس