{وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ: روشن کتاب کی قسم۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ روشن کتاب قرآنِ پاک کی قسم ،جس نے ہدایت اور گمراہی کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں اور اُمت کی تمام شرعی ضروریات کو بیان فرما دیا۔ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں اتاراتا کہ اے عرب والو! تم اس کے معانی اور اَحکام کو سمجھ سکو۔( خازن، الزخرف، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۴/۱۰۱)
عربی زبان کی فضیلت:
یادرہے کہ قرآنِ پاک کے سوا کوئی آسمانی کتاب عربی زبان میں نہ آئی کیونکہ عرب میں حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علاوہ اور کوئی نبی تشریف نہ لائے،اس سے معلوم ہوا کہ عربی زبان تمام زبانوں سے اشرف ہے کہ اس زبان میں قرآنِ پاک آیا،حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبان عربی تھی،مرنے کے بعد سب کی زبان عربی ہو جاتی ہے، عربی میں ہی قبراور قیامت کا حساب ہو گا اور اہلِ جنت کی زبان عربی ہو گی۔
وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور بے شک وہ اصل کتاب میں ہمارے پاس ضرور بلندی و حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک وہ ہمارے پاس اصل کتاب میں یقینا بلندی والا، حکمت والا ہے۔
{وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا: اور بیشک وہ ہمارے پاس اصل کتاب میں ہے۔} یعنی بے شک قرآن پاک ہمارے پاس سب کتابوں کی بنیاد لوحِ محفوظ میں موجود ہے اور اے اہلِ مکہ !تم اگرچہ قرآنِ پاک کو جھٹلاتے رہو (لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا) کیونکہ ہمارے نزدیک ا س کی شان بہت بلند ہے اور یہ تمام کتابوں سے اشرف و اعلیٰ ہے کیونکہ سب اس جیسی کتاب لانے سے عاجز ہیں اور یہ حکمت والا کلام ہے۔( خازن، الزخرف، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۱۰۱، مدارک، الزخرف، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۰۹۵، ملتقطاً)