Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
75 - 608
بیشک انہوں  نے جھٹلایا تو اب ان پر اس کی خبریں  آئیں  گی جس کا یہ مذاق اُڑاتے تھے۔
{وَ مَا یَاْتِیْهِمْ: اور ان کے پاس نہیں  آتی۔} یعنی اللہ تعالٰی نے تنبیہ اور نصیحت پر مشتمل ایک کے بعد ایک آیت نازل فرمائی اوران کفار کا حال یہ ہے کہ جب بھی اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی نئی نصیحت اور وحی نازل ہوتی ہے تووہ اس کا انکار کرتے چلے جاتے ہیں  اور یوں  دم بدم ان کا کفر بڑھتا جاتا ہے۔(1)
{فَقَدْ كَذَّبُوْا: تو بیشک انہوں  نے جھٹلایا۔} اس آیت میں  قرآن مجیدکا انکارکرنے پر مشرکوں  کو وعید سنائی گئی اور اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اللہ تعالٰی کی طرف سے جو قرآن لے کر ان مشرکوں  کے پاس تشریف لائے ہیں ، انہوں  نے اسے جادو،شعر اور سابقہ لوگوں  کی کہانیاں  کہہ کر جھٹلایا تو عنقریب جب انہیں  (دنیا میں  قتل یا آخرت میں  جہنم کا) عذاب پہنچے گا تب انہیں  خبر ہوگی کہ قرآن مجید اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلانے کا یہ انجام ہے اورجب جھٹلانے کا نتیجہ ظاہر ہوگیا تو اس کے بعدان کی شرمندگی اورندامت کوئی فائدہ نہ دے گی۔(2)
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ(۷)اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۸)وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠(۹)
ترجمۂکنزالایمان: کیا انہوں  نے زمین کو نہ دیکھا ہم نے اس میں  کتنے عزت والے جوڑے اُگائے۔ بیشک اس میں  ضرور نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں ۔ اور بیشک تمہارا رب ضرور وہی عزت والا مہربان ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵، ۶/۲۶۲-۲۶۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵، ص۸۱۴، ملتقطاً۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ:۶،ص۸۱۴، تفسیرطبری، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶، ۹/۴۳۳، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶، ۶/۲۶۳، ملتقطاً۔