اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی اتاریں کہ ان کے اونچے اونچے اس کے حضور جھکے رہ جائیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتاریں تو ان کے بڑے بڑے سردار اُس نشانی کے آگے جھکے رہ جائیں ۔
{اِنْ نَّشَاْ: اگر ہم چاہیں ۔} اس آیت میں مزید تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کے ایمان قبول نہ کرنے کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں ،اگر ہمیں ان کا ایمان قبول کر لینا منظور ہوتا تو ہم ضرور ان پر ایسی نشانی اتار دیتے جس کی وجہ سے ان کے بڑے بڑے بھی اس نشانی کے سامنے جھک جاتے، لیکن ہمیں ان کی شَقاوت معلوم ہے، اس لئے ہم ان کے سامنے ایسی کوئی نشانی نہیں اتارتے، لہٰذا آپ زیادہ غم فرما کر اپنی جان کو مشقت میں نہ ڈالیں ۔
وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ(۵) فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور نہیں آتی ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔ تو بیشک انہوں نے جھٹلایا تو اب ان پر آیا چاہتی ہیں خبریں ان کے ٹھٹھے کی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت نہیں آتی مگر وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔ تو