بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓىٕكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(۱۷)وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِۚ-حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْـٰٔنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا‘‘(1)
فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے بُرائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ اور ان لوگوں کی توبہ نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہنے لگے اب میں نے توبہ کی اور نہ ان لوگوں کی (کوئی توبہ ہے) جو کفر کی حالت میں مریں ۔ ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔
آیت میں بوقت ِ موت توبہ قبول نہ ہونے سے مراد وہ وقت ہے جب موت کے بعد کے احوال نظر آنا شروع ہوجائیں ۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ گناہوں سے ایسی توبہ کرے جیسی توبہ کرنے کا حق ہے اور اللہ تعالٰی سے ویسی توبہ کرنے کی توفیق بھی مانگتا رہے جیسی توبہ اس کی بارگاہ میں مقبول اور پسندیدہ ہے۔
وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بیہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔
{وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ: اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔} یعنی کامل ایمان والے گواہی دیتے ہوئے جھوٹ نہیں بولتے اور وہ جھوٹ بولنے والوں کی مجلس سے علیحدہ رہتے ہیں ، اُن کے ساتھ میل جول نہیں رکھتے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…النساء:۱۷،۱۸۔
2…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۷۲، ص۸۱۱۔