وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا(۷۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور جو توبہ کرے اور اچھا کام کرے تو وہ اللہ کی طرف رجوع لایا جیسی چاہیے تھی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو توبہ کرے اور اچھا کام کرے تو وہ اللہ کی طرف ایسا ہی رجوع کرتا ہے جیسا کرنا چاہیے تھا۔
{وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا: اور جو توبہ کرے اور اچھا کام کرے۔} یعنی جو شخص اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور اچھا کام کرے تو وہ اللہ تعالٰی کی طرف ایسا ہی رجوع کرتا ہے جیسا کرنا چاہیے تھا کیونکہ ایسا رجوع اللہ تعالٰی کا پسندیدہ ہے،گناہوں کو مٹانے والاہے اور ثواب حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔(1)
گناہوں سے سچی توبہ کرنے کی ترغیب:
یاد رہے کہ حقیقی اور سچی توبہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں اپنے گناہ کا اقرار کرتے، اس پر ندامت و شرمندگی کا اظہار کرتے اورآئندہ اس گناہ کو نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرتے ہوئے اللہ تعالٰی سے اپنے گناہ کی معافی طلب کرے۔ ایسی توبہ ہی اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں مقبول اور پسندیدہ ہے اور ایسی توبہ ہی حقیقی طور پر فائدہ مند اور گناہوں کو مٹانے والی ہے، چنانچہ ایک اور مقام پر اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًاؕ-عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جس کے بعد گناہ کی طرف لوٹنا نہ ہو قریب ہے کہ تمہارا رب تمہاری بُرائیاں تم سے مٹا دے اور تمہیں ان باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں رواں ہیں ۔
اور ارشاد فرماتاہے:
’’ اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۷۱، ۶/۲۴۸-۲۴۹۔
2…التحریم:۸۔