Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
46 - 608
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان سے کہا جائے رحمن کو سجدہ کرو کہتے ہیں  رحمن کیا ہے کیا ہم سجدہ کرلیں  جسے تم کہو اور اس حکم نے انہیں  اور بدکنا بڑھایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان سے کہا جائے رحمن کو سجدہ کرو توکہتے ہیں : اوررحمن کیا ہے؟ کیا ہم اسے سجدہ کرلیں  جس کا تم ہمیں  کہہ دو اور اس حکم نے ان کی نفرت کو اور بڑھادیا۔
{وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ: اور جب ان سے کہا جائے۔} یعنی جب رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مشرکین سے فرمائیں  کہ رحمن کو سجدہ کرو تو وہ کہتے ہیں : رحمن کیا ہے؟ کیا ہم اسے سجدہ کرلیں  جس کا تم ہمیں  کہہ دو۔اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ رحمن کو جانتے نہیں  اور عناد کی وجہ سے ان کا یہ کہنا باطل ہے کیونکہ لغتِ عرب کوجاننے والا خوب جانتا ہے کہ رحمن کے معنی نہایت رحمت والا ہیں  اور یہ اللہ تعالٰی ہی کی صفت ہے۔ آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایا کہ مشرکوں  کوسجدہ کرنے کا حکم دینا اُن کے لئے اور زیادہ ایمان سے دوری کا باعث ہوا۔(1)
	نوٹ:یاد رہے کہ یہ آیت آیاتِ سجدہ میں  سے ہے، اسے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ کرنا لازم ہو جاتا ہے۔
تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا(۶۱)
ترجمۂکنزالایمان: بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں  بُرْج بنائے اور ان میں  چراغ رکھا اور چمکتا چاند۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں  برج بنائے اور ان میں  چراغ اور روشن کرنے والا چاند بنایا۔
{بُرُوْجًا: بُرج۔} اس سے پہلی آیت میں  کفار کے بارے میں  بیان کیاگیا کہ سجدے کے حکم نے کافروں  کی نفرت اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۶۰، ص۸۰۸۔