Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
425 - 608
قول یہ بھی ہے کہ ا س سے مراد نماز ادا کرنا ہے۔حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے دریافت کیا گیا کہ کیا پانچ نمازوں کا بیان قرآنِ پاک میں  ہے؟آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ہاں  اور یہ آیتیں  تلاوت فرمائیں  اور فرمایا کہ ان میں  پانچوں  نمازیں  اور اُن کے اوقات مذکور ہیں ۔(1)
 الله تعالیٰ کی حمد و ثنا اور تسبیح بیان کرنے کے فضائل:
	 اَحادیث میں  الله تعالیٰ کی حمد و ثنا اور تسبیح بیان کرنے کی بہت سی فضیلتیں  وارد ہیں ،یہاں  ان میں  سے دو فضائل ملاحظہ ہوں  ۔
(1)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’دو کلمے ایسے ہیں  جو زبان پر ہلکے ہیں ، میزانِ عمل میں  بھاری ہیں  اور الله تعالیٰ کو بہت پسند ہیں ۔ (وہ دو کلمے یہ ہیں :) ’’سُبْحَانَاللہ وَ بِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَ اللہ الْعَظِیْم‘‘۔(2)
(2)… حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ الله تعالیٰ نے کلام میں  سے چار چیزوں کو پسند فرما لیا ہے۔ (1)سُبْحَانَ اللہ، (2)اَلْحَمْدُ لِلّٰہ، (3)لَآ اِلٰـہَ اِلَّااللہ، (4) الله اَکْبَر۔ جس نے ’’سُبْحَانَ اللہ‘‘ کہا تو الله تعالیٰ ا س کیلئے بیس نیکیاں  لکھ دیتا ہے اور اس کے بیس گناہ مٹا دیتا ہے ۔ جس نے ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ‘‘ کہا تو ا س کے لئے بھی اسی کی مثل ہے۔ جس نے ’’لَآ اِلٰـہَ اِلَّااللہ‘‘ کہا تو اس کے لئے بھی اسی کی مثل ہے اور جس نے اپنی طرف سے ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْن‘‘ کہا تو اس کے لئے تیس نیکیاں  لکھی جائیں  گی اور ا س کے تیس گناہ مٹا دئیے جائیں  گے۔(3)
{حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ: جب شام کرو اور جب صبح کرو۔} دوسرے قول کے مطابق اس آیت میں  تین نمازوں  کا بیان ہوا، شام میں  مغرب اور عشاء کی نمازیں  آگئیں  جبکہ صبح میں  نمازِ فجر آ گئی۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۱۷، ۷/۱۶، مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۹۰۴، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۱۷، ۳/۴۶۰، ملتقطاً۔
2…بخاری، کتاب الایمان والنذور، باب اذا قال: واللّٰہ لا اتکلّم الیوم فصلّی۔۔۔ الخ، ۴/۲۹۷، الحدیث: ۶۶۸۲۔
3…مسند امام احمد، مسند ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ، ۳/۱۶۶، الحدیث: ۸۰۱۸۔
4…خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۱۷، ۳/۴۶۰۔