آگ سے صحیح سلامت تشریف لائے توآپ کایہ معجزہ دیکھ کرحضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آپ کی رسالت کی تصدیق کی، آپ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے ہیں ۔ یاد رہے کہ یہاں ایمان سے رسالت کی تصدیق ہی مراد ہے کیونکہ اصل توحید کا اعتقاد تو اُن کو ہمیشہ سے حاصل ہے کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمیشہ ہی مومن ہوتے ہیں اور کسی حال میں ان سے کفرکا تصور تک نہیں کیا سکتا۔(1)
{وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ: اور ابراہیم نے فرمایا: میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آگ سے صحیح سلامت تشریف لانے اور اتناعظیم الشّان معجزہ دیکھنے کے باوجو د آپ کی قوم ایمان نہ لائی اورکفروشرک پربضدرہی توآپ نے اس جگہ سے ہجرت کرنے کاارادہ فرمایا۔ چنانچہ آپ نے عراق سے سرزمین ِشام کی طرف ہجرت فرمائی ،اس ہجرت میں آپ کے ساتھ آپ کی بیوی حضرت سارہ رَضِیَ الله تَعَالٰی عَنْہَا اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے۔(2)
آیت ’’وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے :
(1)… بوقت ِ حاجت ہجرت کرنا انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔
(2)… ایسی جگہ چلا جانا جہاں الله تعالیٰ کی عبادت کرنے میں کوئی روک ٹوک نہ ہو، دراصل الله تعالیٰ کی طرف جانا ہے کیونکہ الله تعالیٰ جگہ سے پاک ہے تو ا س کے حق میں یہاں وہاں سب برابر ہے۔
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے اُسے اسحق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۴۴۹۔
2…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۴۴۹۔