Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
362 - 608
بیشک الله ہر شے پر قادر ہے۔
{قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ: تم فرماؤ :زمین میں  چل کر دیکھو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یا اے حضرت ابراہیم! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، آپ کافروں  سے فرما دیں  :تم زمین میں  چل کر سابقہ قوموں  کے شہروں  اور آثار کو دیکھوکہ الله تعالیٰ مخلوق کو پہلے کیسے بناتا،پھر موت دیتا ہے تاکہ تم مشاہدہ کر کے الله تعالیٰ کی فطرت کے عجائبات کی معرفت حاصل کر سکو نیزجب یہ معلوم ہے کہ پہلی مرتبہ الله تعالیٰ ہی نے پیدا کیا تو معلوم ہو گیا کہ اس خالق کا مخلوق کو موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی دشوار نہیں  کیونکہ الله تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے تو وہ پہلی بار پیدا کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔(1)
	اس سے معلوم ہوا کہ الله تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کیلئے ا س کی قدرت کے نظاروں  جیسے دریاؤں ، پہاڑوں  اور زمین کے دیگر عجائبات کی سیر کرنا بھی عبادت ہے۔
یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ(۲۱)وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ٘-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠(۲۲)
ترجمۂکنزالایمان: عذاب دیتا ہے جسے چاہے اور رحم فرماتا ہے جس پر چاہے اور تمہیں  اسی کی طرف پھرنا ہے۔اور نہ تم زمین میں  قابو سے نکل سکو اور نہ آسمان میں  اور تمہارے لیے الله کے سوا نہ کوئی کام بنانے والا اور نہ مددگار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے۔ اور نہ تم زمین میں  (ہمیں ) عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں اور تمہارے لیے الله کے سوا نہ کوئی کام بنانے والاہے اور نہ مددگار۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۰، ص۸۸۹، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۰، ۳/۴۴۸، ملتقطاً۔