Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
360 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم تو الله کے سوا بتوں  کو پوجتے ہو اور نرا جھوٹ گھڑتے ہو۔بیشک جن کی تم الله کے سوا عبادت کرتے ہو وہ تمہارے لئے روزی کے کچھ مالک نہیں  تو تم الله کے پاس رزق ڈھونڈواور اس کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بنو ، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ اور اگر تم جھٹلاؤگے تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ جھٹلا چکے ہیں  اور رسول کے ذمہ توصرف صاف پہنچا دینا ہے۔
{اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا: تم تو الله کے سوا بتوں  کو پوجتے ہو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا ’’تم تو الله تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے بتوں  کو پوجتے ہو اور بتوں  کو الله تعالیٰ کا شریک کہہ کر نِرا جھوٹ گھڑتے ہو۔بے شک تم الله تعالیٰ کی بجائے جن کی عبادت کرتے ہو وہ تمہیں  رزق دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں  رکھتے تو تم الله تعالیٰ سے اپنا رزق طلب کرو کیونکہ وہی رزق دینے والا اور ہر ایک تک اس کی روزی پہنچانے کی قدرت رکھنے والا ہے اور صرف اسی کی عبادت کرو کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود ہونے کا مستحق نہیں  اور اس کے شکرگزار بنو کیونکہ وہی تمہیں  رزق عطا فرما کر تم پر احسان فرماتا ہے، اور یاد رکھو کہ آخرت میں  اسی کی طرف تم دوبارہ زندہ کر کے لوٹائے جاؤ گے ،ا س لئے الله تعالیٰ کی عبادت اور اس کی نعمتوں  پر اس کا شکر ادا کر کے قیامت کے دن الله تعالیٰ سے ملاقات کی تیار ی کرو اور اگر تم مجھے جھٹلاؤگے اور میری بات نہ مانو گے تو اس سے میرا کوئی نقصان نہیں  ، میں  نے راہ دکھا دی اورمعجزات پیش کر دیئے جس سے میرا فرض ادا ہو گیا ، اس پر بھی اگر تم نہ مانو تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ اپنے اَنبیاء اور رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلا چکے ہیں  جیسے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اور عاد و ثمود وغیرہ، ان کے جھٹلانے کا انجام یہی ہوا کہ الله تعالیٰ نے انہیں  ہلاک کر دیا اور اگر تم بھی اُسی رَوِش پر قائم رہے تو تمہارا انجام بھی اُنہی جیساہو گا۔(1)
اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ(۱۹)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ۳/۴۴۷-۴۴۸، مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ص۸۸۸، روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ۶/۴۵۷، ملتقطاً۔