Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
357 - 608
کرنے والوں کے اپنے گناہ میں  بھی کچھ کمی نہ آئے گی ۔(1)
	اس سے ان لوگوں  کو عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی بڑی ضرورت ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں  کو بھی گناہوں  میں  مبتلا ہونے کے مَواقع فراہم کرتے اور انہیں  طرح طرح کے دُنْیَوی مَنافع اور فوائد بتا کر گناہوں  کی ترغیب دیتے ہیں  الله تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًاؕ-فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان:  اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں  پچاس سال کم ہزار برس رہا تو اُنہیں  طوفان نے ا ٓ لیا اور وہ ظالم تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں  پچاس سال کم ایک ہزار سال رہے پھر اس قوم کو طوفان نے پکڑ لیا اور وہ ظالم تھے۔
{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ: اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔} یہاں  سے الله  تعالیٰ نے چند انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے ہیں  اور ان سے مقصودحضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان تکلیفوں  اور اَذِیَّتوں  پر تسلی دینا ہے جو کفارِ مکہ کی طرف سے آپ کو پہنچا کرتی تھیں ،اس سلسلے میں  سب سے پہلے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان فرمایا گیا،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک ہم نے آپ سے پہلے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں  پچاس سال کم ایک ہزار (یعنی 950) سال رہے، اس پوری مدت میں  انہوں  نے قوم کو توحید اور ایمان کی دعوت دینے کا عمل جاری رکھا اور ان کی طرف سے پہنچنے والی سختیوں  اور ایذاؤں  پر صبر کیا،جب وہ قوم اپنی حرکتوں  سے باز نہ آئی اور مسلسل تکذیب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ۔۔۔ الخ، ص۵۰۸، الحدیث: ۶۹(۱۰۱۷)۔