پائی جانے والی بد امنی کی وجوہات اور اسباب پر بھی دل سے غور کرنا چاہئے اور بطورِ خاص اس پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے سوچناچاہئے کہ کہیں یہ ہمارا تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعلیمات اور احکامات پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ تو نہیں ،اگر ایسا ہے اور یقینا ایسا ہی ہے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی اطاعت نہ کرنے کی رَوِش کو ترک کر دیں اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی کامل اطاعت و فرمانبرداری شروع کر دیں ، اِنْ شَآئَ الله برسوں نہیں ، مہینوں میں بلکہ دنوں میں ہمارا معاشرہ امن وامان کا گہوارہ بن جائے گا۔ الله تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
گناہ کرنے میں لوگوں کی بجائے الله تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ الله تعالیٰ کی نافرمانی کرنے میں لوگوں کی پکڑ اور ان کی سزا سے خوف کھانا جبکہ الله تعالیٰ کی گرفت اور عذاب سے بے خوف ہونا کفار کا طریقہ ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ الله تعالیٰ کی نافرمانی کے معاملے میں لوگوں کی بجائے الله تعالیٰ کے عذاب سے ڈرے اور اس سے کسی بھی حال میں بے پرواہ نہ ہو۔اعلیٰ حضرت امام ا حمد رضا خان رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
چھپ کے لوگوں سے کئے جس کے گناہ وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے
ارے او مجرم بے پَروا دیکھ سر پہ تلوار ہے کیا ہونا ہے
وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَاۚ-وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ(۵۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے اصل مرجع میں رسول نہ بھیجے جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے اور ہم شہروں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جبکہ ان کے ساکن ستم گار ہوں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک ان کے مرکزی شہر میں رسول نہ بھیجے جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے اور ہم شہروں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں مگر (اسی وقت) جب ان کے رہنے والے ظالم ہوں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۵۹، ص۸۷۵-۵۷۶، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۵۹، ۳/۴۳۷، ملتقطاً۔