Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
303 - 608
ترجمۂکنزالایمان: اور کتنے شہر ہم نے ہلاک کردئیے جو اپنے عیش پر اِتراگئے تھے تو یہ ہیں  ان کے مکان کہ ان کے بعد ان میں  سکونت نہ ہوئی مگر کم اور ہمیں  وارث ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کتنے شہر ہم نے ہلاک کردئیے جو اپنے عیش پر اِترانے لگے تھے تو یہ ان کے مکانات ہیں  جن میں  ان کے بعد بہت کم رہائش رکھی گئی اور ہم ہی وارث ہیں ۔
{وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ: اور کتنے شہر ہم نے ہلاک کردئیے۔} یہاں  کفارِ مکہ کو ایسی قوموں  کے خراب انجام سے خوف دلایا جارہا ہے جن کا حال اِن کی طرح تھا کہ وہ الله تعالیٰ کی نعمتیں  پاتے اور شکر کرنے کی بجائے ان نعمتوں  پر اِتراتے تو وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے اور یہ ان کے مکان ہیں  جن کے آثار اب بھی باقی ہیں  اور عرب کے لوگ اپنے سفروں  میں  انہیں  دیکھتے ہیں  کہ ان مکانات میں  ہلاک ہونے والوں  کے بعد بہت کم رہائش رکھی گئی کہ کوئی مسافر یا راہ گزر ان میں  تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر جاتا ہے ،پھر یہ اسی طرح خالی پڑے رہتے ہیں  ۔ وہاں  کے رہنے والے ایسے ہلاک ہوئے کہ ان کے بعد ان کا کوئی جانشین باقی نہ رہا اور اب الله تعالیٰ کے سوا ان مکانوں  کا کوئی وارث نہیں  کیونکہ مخلوق کی فنا کے بعد وہی سب کا وارث ہے ۔(1)
معاشرے کوامن و امان کا گہوارہ بنانے کاذریعہ:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی اطاعت سے امن نصیب ہوتا اور نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی مخالفت سے ہلاکت ہوتی ہے،جبکہ کفار ِمکہ نے الٹا سمجھ لیا کہ حضورپُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت سے بد امنی ہو گی اور مخالفت سے امن ملے گا حالانکہ تاریخ اس کے برعکس ہے اور تاریخ سے ادنیٰ سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ جن لوگوں  نے اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی اطاعت کی انہوں  نے دنیا میں  امن پایا اور وہ الله تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے اور جو لوگ اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی اطاعت سے رُوگَردانی کرتے رہے اور ان کی مخالفت پر کمر بستہ رہے
 وہ انتہائی خوفناک عذابوں  کے ذریعے ہلاک کر دئیے گئے ۔اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں  اپنے معاشرے میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۵۸، ص۸۷۵، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۵۸، ۳/۴۳۷، ملتقطاً۔