الْوٰرِثِیْنَۙ(۵) وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم چاہتے تھے کہ ان کمزوروں پر احسان فرمائیں اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کے ملک و مال کا انہیں کو وارث بنائیں ۔ اور انھیں زمین میں قبضہ دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی دکھادیں جس کا انہیں ان کی طرف سے خطرہ ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان فرمائیں جنہیں زمین میں کمزوربنا یاگیا تھااور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک و مال کا) وارث بنائیں ۔اور انہیں زمین میں اقتداردیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی دکھادیں جس کا انہیں ان کی طرف سے خطرہ تھا۔
{وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ: اور ہم چاہتے تھے کہ احسان فرمائیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون نے تو بنی اسرائیل کو کمزور بنا کر رکھا ہوا تھا لیکن الله تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو فرعون کی سختی سے نجات دے کر ان پر احسان فرمائے اور انہیں پیشوا بنائے کہ وہ لوگوں کو نیکی کی راہ بتائیں اور لوگ نیکی میں ان کی اقتدا کریں اور الله تعالیٰ وہ تمام اَملاک و اَموال ان کمزور بنی اسرائیل کو دیدے جو فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت میں تھے اور الله تعالیٰ انہیں مصر و شام کی سرزمین میں اقتدار دے اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی دکھادے جس کا انہیں بنی اسرائیل کی طرف سے خطرہ تھااور ا س سے بچنے کی وہ بھرپور کوشش کر رہے تھے یعنی بنی اسرائیل کے ایک فرزند کے ہاتھ سے ان کی سلطنت کا زوال ہونا اور ان لوگوں کا ہلاک ہو جانا۔(1)
یاد رہے کہ آیت نمبر5میں وارثت سے مراد شرعی میراث نہیں کیونکہ مومن کافر کا وارث نہیں ہوتا بلکہ یہاں وراثت کے وسیع مفہوم میں سے ایک معنی مراد ہے یعنی موت کے بعد اس کی سلطنت کا وارث ہونا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۷، ۳/۴۲۳، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۷، ص۸۶۱، جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۷، ص ۳۲۶، ملتقطاً۔