ترجمۂکنزُالعِرفان: ہم تمہارے سامنے حق کے ساتھ موسیٰ اور فرعون کی خبرپڑھتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں ۔
{نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ: ہم تمہارے سامنے خبرپڑھتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم آپ کے سامنے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرعون کی سچی خبر ان لوگوں کے لئے پڑھتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ۔یہاں ایمان والوں کا بطورِ خاص اس لئے ذکر کیا گیا کہ یہی ان واقعات سے حاصل ہونے والی نصیحت کو قبول کرتے ہیں ۔نیز یاد رہے کہ ا س سورت سے پہلے 19سورتوں میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ ذکر ہو چکا ہے اور اس سورت کے بعد مزید 17سورتوں میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ مذکور ہے۔اتنی کثرت سے آپ کا واقعہ ذکر کرنے کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس میں حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کی خاص دلیل تھی کیونکہ آپ بغیر پڑھے اور تاریخ دانوں کے پاس بیٹھے بغیرایسے سچے واقعات بیان کر رہے تھے اور یہ وحی کے بغیر ممکن نہیں ۔ دوسری وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ عرب میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرعون کے واقعات خاص و عام میں بہت مشہور تھے ، اور ان واقعات میں بنی اسرائیل نے بہت سی غلط باتیں ملا دی تھیں ، اس لئے الله تعالیٰ نے یہ واقعات قرآن کریم میں جگہ جگہ مختلف طریقوں سے بیان کئے تاکہ اس کے غلط اور صحیح پہلو ایک دوسرے سے ممتاز ہو جائیں ۔
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآىٕفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا اور اس کے لوگوں کو اپنا تابع بنالیا ان میں ایک گروہ کو کمزور دیکھتا ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا بیشک وہ فسادی تھا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۴، ص۸۶۰، تفسیرابو سعود، القصص، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۲۲۳-۲۲۴، ملتقطاً۔