Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
197 - 608
{قَالَتْ:ملکہ نے کہا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مکتوب کا مضمون سنا کر بلقیس اپنی مملکت کے وزرا ء کی طرف متوجہ ہوئی اور کہا ’’اے سردارو!میرے اس معاملے میں  مجھے رائے دو، میں  کسی معاملے میں  کوئی قطعی فیصلہ نہیں  کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو۔سرداروں  نے کہا: ہم قوت والے ہیں  اور بڑی سخت جنگ لڑ سکتے ہیں ۔ اس سے اُن کی مراد یہ تھی کہ اگر تیری رائے جنگ کی ہو تو ہم لوگ اس کے لئے تیار ہیں  کیونکہ ہم بہادر اور شُجاع ہیں ، قوت وتوانائی والے ہیں ، کثیر فوجیں  رکھتے ہیں  اورجنگ آزما ہیں ۔سرداروں  نے مزید کہا کہ صلح یا لڑائی کااختیار توتمہارے ہی پاس ہے،اے ملکہ! تو تم غور کرلو کہ تم کیا حکم دیتی ہو؟ ہم تیری اطاعت کریں  گے اور تیرے حکم کے منتظرہیں ۔ اس جواب میں  انہوں  نے یہ اشارہ کیا کہ اُن کی رائے جنگ کی ہے یا اس جواب سے ان کا مقصدیہ تھا کہ ہم جنگی لوگ ہیں ، رائے اور مشورہ دینا ہمارا کام نہیں ، تم خود صاحب ِعقل اور صاحب ِتدبیر ہو، ہم بہرحال تیری اطاعت کریں  گے۔(1)
قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةًۚ-وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ(۳۴)
ترجمۂکنزالایمان: بولی بیشک جب بادشاہ کسی بستی میں  داخل ہوتے ہیں  اسے تباہ کردیتے ہیں  اور اس کے عزت والوں  کو ذلیل اور ایسا ہی کرتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس نے کہا: بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں  داخل ہوتے ہیں  تواسے تباہ کردیتے ہیں  اور اس کے عزت والوں  کوذلیل کردیتے ہیں  اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں ۔
{قَالَتْ: اس نے کہا۔} جب بلقیس نے دیکھا کہ یہ لوگ جنگ کی طرف مائل ہیں  تو اُس نے انہیں  اُن کی رائے کی خطا پر آگاہ کیا اور جنگ کے نتائج سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ جب بادشاہ کسی بستی میں  اپنی قوت اور طاقت سے داخل ہوتے ہیں  تواسے تباہ کردیتے ہیں  اور اس کے عزت والوں  کو قتل کر کے، قیدی بنا کراور ان کی توہین کر کے انہیں  ذلیل کردیتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۳۲-۳۳، ص۸۴۵، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۳۲-۳۳، ۳/۴۰۹-۴۱۰، ملتقطاً۔