Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
195 - 608
فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ(۲۸)قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ(۲۹)اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ(۳۰) اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠(۳۱)
ترجمۂکنزالایمان: سلیمان نے فرمایا اب ہم دیکھیں  گے کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں  میں  ہے۔ میرا یہ فرمان لے جا کر ان پر ڈال پھر ان سے الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔وہ عورت بولی اے سرداروبیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا۔بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہ اللہ کے نام سے ہے جو نہایت مہربان رحم والا۔ یہ کہ مجھ پر بلندی نہ چاہو اور گردن رکھتے میرے حضور حاضر ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: سلیمان نے فرمایا: ہم ابھی دیکھتے ہیں  کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں  میں  سے ہے۔ میرا یہ فرمان لے جا ؤاور اسے ان کی طرف ڈال دو پھر ان سے الگ ہٹ کردیکھنا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔ عورت نے کہا: اے سردارو!بیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا ہے۔ بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہ اللہ کے نام سے ہے جونہایت مہربان رحم والا ہے۔ یہ کہ میرے مقابلے میں  بلندی نہ چاہواور میرے پاس فرمانبردار بنتے ہوئے حا ضر ہو جاؤ۔
{ قَالَ: فرمایا۔} حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ہد ہد سے فرمایا :ہم ابھی دیکھتے ہیں  کہ تو سچا ہے یا جھوٹا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک مکتوب لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ اللہ کے بندے سلیمان بن داؤد کی جانب سے شہر ِسبا کی ملکہ بلقیس کی طرف۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  اُس پر سلام جو ہدایت قبول کرے۔ اس کے بعد مُدّعا یہ ہے کہ تم مجھ پر بلندی نہ چاہو اور میری بارگاہ میں  اطاعت گزار ہو کر حاضر ہو جاؤ۔اس مکتوب پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی مہر لگائی اور ہدہد سے فرمایا’’میرا یہ فرمان لے جا ؤاور اسے ان کی طرف ڈال دو پھر ان سے الگ ہٹ کر دیکھنا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔چنانچہ ہد ہد وہ مکتوبِ گرامی لے کر بلقیس کے پاس پہنچا، اس وقت بلقیس کے گرد اس