کا شکر ادا کریں اور عاجزی و اِنکساری کا اظہار کریں اور یہ ذہن بنائیں کہ اگرچہ انہیں کثیر لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے لیکن بہت سے بندوں کو ان پر بھی فضیلت حاصل ہے کہ ہر علم والے کے اوپر بڑا علم والا ہے۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ عاجزی فرماتے ہوئے کہتے تھے’’سب لوگ عمر فاروق سے زیادہ فقیہ ہیں ۔(1)
وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍؕ-اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور سلیمان داؤد کا جانشین ہوا اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہر چیز میں سے ہم کو عطا ہوا بیشک یہی ظاہر فضل ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور سلیمان داؤد کے جانشین بنے اور فرمایا: اے لوگو!ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز میں سے ہم کو عطا ہوا،بیشک یہی (اللہ کا) کھلا فضل ہے۔
{وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ: اور سلیمان داؤد کے جانشین بنے۔} یہاں آیت میں نبوت، علم اور ملک میں جانشینی مراد ہے مال کی وراثت مراد نہیں ۔ چنانچہ ابومحمد حسین بن مسعود بغوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں ۔حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے صرف حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کی نبوت، علم اور ان کے ملک کے وارث بنے۔حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ملک عطا ہوا اور مزید انہیں ہواؤں اور جِنّات کی تسخیر بھی عطا کی گئی۔(2)
حضرت علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وصال کے بعد علم،نبوت اور ملک صرف حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عطا ہوئے، ان کی باقی اولاد کو نہ ملے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابو سعود، النمل، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴/۱۹۰، ملتقطاً۔
2…تفسیر بغوی، النمل، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳/۳۵۰۔