Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
94 - 695
اَسْمِعْ بِہِمْ وَ اَبْصِرْ ۙ یَوْمَ یَاۡتُوۡنَنَا لٰکِنِ الظّٰلِمُوۡنَ الْیَوْمَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: کتنا سنیں گے اور کتنا دیکھیں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہوں گے مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن کتنا سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہوں گے لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں۔
{اَسْمِعْ بِہِمْ وَ اَبْصِرْ:اس دن کتنا سنتے اور دیکھتے ہوں گے۔} یعنی قیامت کے دن جب کافر ہمارے پاس حاضر ہوں گے تو اس دن خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے لیکن چونکہ انہوں نے دنیا میں حق کے دلائل کو نہیں دیکھا اور اللّٰہ تعالیٰ کی وعیدوں کو نہیں سنا تو اُس دن کا دیکھنا او رسننا انہیں کچھ نفع نہ دے گا ۔ بعض مفسرین نے کہا کہ یہ کلام ڈرانے کے طور پر ہے کہ اس دن (وہ اپنے بارے میں) ایسی ہولناک باتیں سنیں اور دیکھیں گے جن سے ان کے دل پھٹ جائیں گے، لیکن آج دنیا میں ظالم کھلی گمراہی میں ہیں ،نہ حق دیکھتے ہیں نہ حق سنتے ہیں بلکہ بہرے اور اندھے بنے ہوئے ہیں ، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کواِ لٰہ اور معبود ٹھہراتے ہیں حالانکہ انہوں نے صراحت کے ساتھ اپنے بندہ ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔
وَ اَنۡذِرْہُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ ۘ وَ ہُمْ فِیۡ غَفْلَۃٍ وَّ ہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿۳۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہوچکے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ نہیں مانتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہیں پچھتاوے کے دن سے ڈراؤ جب فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ غفلت میں ہیں اورنہیں مانتے۔
{وَ اَنۡذِرْہُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ:اور انہیں پچھتاوے کے دن سے ڈراؤ ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کافروں کو اس دن سے ڈرائیں جس میں لوگ حسرت کریں گے، غمزدہ ہوں گے اور نیک و بد تمام لوگ پچھتائیں