Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
92 - 695
وہ کام فوراً ہوجاتا ہے، اور جو ایسا قادرِ مُطْلَق ہو اسے بیٹے کی کیا حاجت ہے اور اسے کسی کا باپ کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔
وَ اِنَّ اللہَ رَبِّیۡ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیۡمٌ ﴿۳۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللّٰہ رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو یہ راہ سیدھی ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللّٰہ میرا اور تمہارارب ہے تو اس کی عبادت کرو۔ یہ سیدھا راستہ ہے۔
{وَ اِنَّ اللہَ رَبِّیۡ وَرَبُّکُمْ:اور بیشک اللّٰہ میرا اور تمہارا رب ہے۔} اس آیت میں مذکور کلام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے، چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: بیشک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ میرا اور تمہارارب ہے، اس کے سوا اور کوئی رب نہیں، تو تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اللّٰہ تعالیٰ کے جو اَحکامات میں نے تم تک پہنچائے یہ ایسا سیدھا راستہ ہے جو جنت کی طرف لے کر جاتا ہے۔(1)
فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمْ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ مَّشْہَدِ یَوْمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۳۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں تو خرابی ہے کافروں کے لیے ایک بڑے دن کی حاضری سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر گروہوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا تو کافروں کے لئے خرابی ہے ایک بڑے دن کی حاضری سے۔
{فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمْ:پھر گروہوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں حقیقت ِحال واضح ہوجانے کے باوجود لوگوں میں ان کے متعلق کئی فرقے بن گئے حالانکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کااپنی دودھ پینے کی عمر میں کلام کرنا اور کلام کرنے میں سب سے پہلے ہی اس اختلاف کی بیخ کنی کرنا کہ میں ایک بندہ ہوں، اور مَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خدا یا خدا کا بیٹا نہیں ہوں واضح طور پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے خاص بندے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳/۲۳۵۔