{ذٰلِکَ عِیۡسَی ابْنُ مَرْیَمَ:یہ عیسیٰ مریم کا بیٹاہے۔} گزشتہ آیات میں حضر ت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کا قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا تاکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ولادت کی اصل حقیقت واضح ہو، اب اس آیت ِمبارکہ سے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے متعلق جویہودی اورعیسائی عقیدہ رکھتے ہیں اس کی وضاحت شروع کی گئی تاکہ اس بارے میں بھی اصل حقیقت واضح ہوکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے متعلق ان کے عقیدے کیا ہیں۔ یہودی تو مَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّحضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوجادوگر، ولدُ الزِّنا کہتے تھے اور عیسائی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے بیٹے ہیں اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے برگزیدہ نبی اور بندے ہیں جیساکہ گزشتہ آیات میں بیان کیا گیا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پیدا ہوتے ہی فرمایا ’’اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ‘‘میں اللّٰہ کابندہ ہوں، اوریوں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے تمام باطل نظریات کارد کردیا۔
مَا کَانَ لِلہِ اَنۡ یَّتَّخِذَ مِنۡ وَّلَدٍ ۙ سُبْحٰنَہٗ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿ؕ۳۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاوہ فوراً ہوجاتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کیلئے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے ، وہ پاک ہے ۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہ فرماتا ہے ، ’’ہوجا‘‘ تو وہ فوراً ہوجاتا ہے۔
{مَا کَانَ لِلہِ اَنۡ یَّتَّخِذَ مِنۡ وَّلَدٍ:اللّٰہ کیلئے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔} اس آیت مبارکہ میں عیسائیوں کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے بیٹے ہیں، چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ اولاد سے اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں کہ وہ کسی کواپنا بیٹا بنائے اور وہ عیسائیوں کے لگائے گئے بہتان سے پاک ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تواسے صرف یہ فرماتا ہے ، ’’ہوجا‘‘ تو