قدرت سے بغیر بارش کے اگائے، کیا تو یہ کہہ سکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ پانی کی مدد کے بغیر درخت پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ یوسف نے کہا :میں یہ تو نہیں کہتا بے شک میں اس کا قائل ہوں کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہر شے پر قادر ہے ،جسے کُن فرمائے وہ ہوجاتی ہے۔ حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے کہا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اُن کی بیوی کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا۔ حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے اس کلام سے یوسف کا شُبہ رفع ہوگیا اور حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا حمل کے سبب سے ضعیف ہوگئیں تھیں اس لئے حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی نِیابَت کے طور پر مسجد کی خدمت وہ سر انجام دینے لگا۔(1)
تمام مخلوقات کو پہلی بار اللّٰہ تعالیٰ نے پیدا کیا:
یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کائنات میں جتنی مخلوقات پیدا فرمائیں ان تمام کی پہلی بار پیدائش اس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے فرمائی اور اس کے بعد جن مخلوقات کی افزائش منظور تھی ان کی افزائش کے لئے ظاہری اَسباب مقرر فرمائے اور ان اَسباب کے ذریعے مخلوقات کی افزائش ہوئی، نیز اَسباب مقرر کرنے کے بعد بھی اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اِظہار کے لئے بعض مخلوقات کو ان کے ظاہری سبب کے بغیر پیدا فرمایا جیسے حضرت حوّا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پسلی سے پیدا فرما یا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔ کائنات میں اَشیاء کے پہلی بار وجود میں آنے سے متعلق یہ وہ مُعْتَدِل نظریہ ہے جو عقل اور شریعت کے عین موافق ہے جبکہ اس کے برعکس دَہْرِیّوں کے نظریات عقل و نظر کے صریح مخالف ہیں کہ ان کے نظریات کی رُو سے کسی شے کی کوئی ابتداء بنتی ہی نظر نہیں آتی۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے والی چیزوں میں غورو فکر کرنا اور ان چیزوں میں اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل تلاش کرنے کے لئے تحقیق اور جستجو کرنا بہت عمدہ کام ہے کیونکہ اس سے اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت دلائل کے ساتھ معلوم ہوتی ہے اور یوں کفار کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت اور ا س کی وحدانیت کا اعتراف کرنے اور اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی راہیں کھلتی ہیں اور مسلمانوں کا اپنے رب تعالیٰ پر ایمان مزید مضبوط ہوتا ہے۔
فَاَجَآءَہَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ ۚ قَالَتْ یٰلَیۡتَنِیۡ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۲۲،۳/۲۳۲۔