طرف وحی کی ۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا یہی قول ہے اور اتنی سی عمر میں فہم و فراست اور عقل و دانش کا کمال، خَوارقِ عادات (یعنی انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات) میں سے ہے اور جب اللّٰہ تعالیٰ کے کرم سے یہ حاصل ہو تو اس حال میں نبوت ملنا کچھ بھی بعید نہیں، لہٰذا اس آیت میں حکم سے نبوت مراد ہے اور یہی قول صحیح ہے ۔ بعض مفسرین نے اس سے حکمت یعنی توریت کا فہم اور دین میں سمجھ بھی مراد لی ہے۔(1)
ہماری پیدائش کا اصلی مقصد:
حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ میرے بھائی حضرت یحیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر رحم فرمائے، جب انہیں بچپن کی حالت میں بچوں نے کھیلنے کے لئے بلایا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے (ان بچوں سے) کہا: کیا ہم کھیل کے لئے پیدا کئے گئے ہیں؟ (ایسا نہیں ہے، بلکہ ہمیں عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہی ہم سے مطلوب ہے۔ جب نابالغ بچہ اس طرح کہہ رہا ہے تو )اس بندے کا قول کیسا ہونا چاہئے جو بالغ ہو چکا ہے۔(2)
اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں پیدا کئے جانے کا اصلی مقصد یہ نہیں کہ ہم کھیل کود اور دُنْیَوی عیش و لذّت میں اپنی زندگی بسر کریں بلکہ ہماری پیدائش کا اصلی مقصد یہ ہے کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔اسی چیز کو قرآنِ مجید میں اس طرح بیا ن کیا گیا ہے کہ
’’اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمْ اِلَیۡنَا لَا تُرْجَعُوۡنَ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایااور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟
اور ارشاد فرمایا کہ
’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ‘‘ (4)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ1…جلالین، مریم، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۲۵۴، خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۳/۲۳۰، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۶۶۹، تفسیر کبیر، مریم، تحت الآیۃ: ۱۲، ۷/۵۱۶-۵۱۷، ملتقطاً۔
2…ابن عساکر، حرف الیاء، ذکر من اسمہ یحی، یحی بن زکریا بن نشوی۔۔۔ الخ، ۶۴/۱۸۳۔
3…مومنون:۱۱۵۔ 4…ذاریات:۵۶۔