پارہ نمبر…18
سورۂ مؤمنون
سورۂ مؤمنون کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ مؤمنون مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس میں 6رکوع، 118آیتیں،1840 کلمے اور 4802 حروف ہیں۔(2)
’’مؤمنون ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سور ت کی ابتداء میں مومنوں کی کامیابی،ان کے اوصاف اور آخرت میں ان کی جزاء بیان کی گئی ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ مؤمنون‘‘ رکھا گیا ہے۔
سورۂ مؤمنون کی فضیلت:
حضرت یزید بن بابنوس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ہم نے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے عرض کی :اے اُمُّ المؤمنین! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاق کیسے تھے؟ارشاد فرمایا: حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا خُلق قرآن تھا،پھر فرمایا:’’ تم سورۂ مؤمنون پڑھتے ہوتوپڑھو۔ چنانچہ انہوں نے ’’قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ‘‘ سے لے کر دس آیتیں پڑھیں تو حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاق ایسے ہی تھے۔(3)
سورۂ مؤمنون کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں خالق کے وجود،اس کی وحدانیت،نبوت و رسالت کے ثبوت اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، تفسیر سورۃ المؤمنین، ۳/۳۱۹۔
2…خازن، تفسیر سورۃ المؤمنین، ۳/۳۱۹۔
3…مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ المؤمنون، خلق اللّٰہ جنّۃ عدن۔۔۔ الخ، ۳/۱۵۳، الحدیث: ۵۳۳۳۔