Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
484 - 695
اِنَّمَا یَدْعُوۡا حِزْبَہٗ لِیَکُوۡنُوۡا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیۡرِ‘‘(1)
بھی اسے دشمن سمجھو، وہ تو اپنے گروہ کو اسی لیے بلاتا ہے تاکہ وہ بھی دوزخیوں میں سے ہوجائیں۔
 	اور نفسانی خواہشات کی پیروی سے رکنے والے کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑےہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے۔
	حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں، کچھ لوگ جہاد سے واپسی پر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہو ئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم آگئے، خوش آمدید! اور تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف آئے ہو۔انہوں نے عرض کی:بڑا جہاد کیا ہے؟ارشاد فرمایا’’بندے کا اپنی خواہشوں سے جہاد کرنا۔(3)
	حضرت فضالہ بن عبید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مجاہد وہ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں اپنے نفس سے لڑتا ہے۔(4)
	حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: انسان کے دشمن تین ہیں: (1)اس کی دنیا۔ (2) شیطان۔(3)نفس۔ لہٰذا دنیا سے بے رغبتی اختیار کر کے اس سے بچو،شیطان کی مخالفت کر کے ا س سے محفوظ رہو اور خواہشات کو چھوڑ دینے کے ذریعے نفس سے حفاظت میں رہو۔(5)
اللّٰہ       اللّٰہ        کے          نبی        سے	فریاد ہے نفس کی بدی سے
دن بھر کھیلوں میں خاک اڑائی	لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے
شب بھر سونے ہی سے غرض تھی	تاروں نے ہزار دانت پیسے
ایمان پہ مَوت بہتر او نفس		تیری ناپاک زندگی سے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…فاطر:۶۔
2…نازعات:۴۰،۴۱۔
3…الزہد الکبیر للبیہقی، فصل فی ترک الدنیا ومخالفۃ النفس، ص۱۶۵، الحدیث: ۳۷۳۔
4…مسند امام احمد، مسند فضالۃ بن عبید الانصاری رضی اللّٰہ عنہ، ۹/۲۴۹، الحدیث: ۲۴۰۱۳۔
5…احیاء علوم الدین، کتاب ریاضۃ النفس وتہذیب الاخلاق، بیان شواہد النقل من ارباب البصائر۔۔۔ الخ، ۳/۸۱۔