Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
481 - 695
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو!رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرواور اچھے کام کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاجاؤ۔
{یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوۡا وَاسْجُدُوۡا: اے ایمان والو!رکوع اور سجدہ کرو۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو 3اَحکام دئیے ہیں،
(1)… نمازپڑھو۔ کیونکہ نماز کے سب سے افضل ارکان رکوع اور سجدہ ہیں اور یہ دونوں نماز کے ساتھ خاص ہیں تو ان کا ذکر گویا کہ نماز کا ذکر ہے۔
(2)…اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔اس کاایک مطلب یہ ہے کہ تم اپنے رب کی عبادت کرو اور ا س کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جو کام کرنے کا حکم دیا ہے اور جن کاموں سے منع کیا ہے، ان سب (پر عمل کرنے کی صورت) میں اپنے رب کی عبادت کرو۔تیسرا مطلب یہ ہے کہ رکوع،سجدہ اور دیگر نیک اعمال کو اپنے رب کی عبادت کے طور پر کرو کیونکہ عبادت کی نیت کے بغیر فقط ان افعال کو کرنا کافی نہیں۔
(3)…نیک کام کرو۔حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ان سے مراد صلہ رحمی کرنا اور دیگر اچھے اَخلاق ہیں۔
	آیت کے آخر میں فرمایا کہ تم یہ سب کام اس مید پر کرو کہ تم جنت میں داخل ہو کر فلاح و کامیابی پاجاؤ اور تمہیں جہنم سے چھٹکارا نصیب ہو جائے۔(1)
نیک اعمال کس امید پر کرنے چاہئیں؟
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندہ عبادات اور نیک اعمال ضرورکرے کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ہے لیکن ان عبادات و نیک اعمال کی وجہ سے یہ ذہن نہ بنائے کہ اب ا س کی بخشش و مغفرت یقینی ہے بلکہ اس امید پر اخلاص کے ساتھ اور اللّٰہ تعالیٰ کی رضاکے لئے نیک کام کرے کہ ان کی برکت سے اللّٰہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل و رحمت فرمائے گا اور اپنی رحمت سے جہنم کے عذاب سے چھٹکارا اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے گا۔
سورۂ حج کی آیت نمبر77سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ:
	یاد رہے کہ اَحناف کے نزدیک سورۂ حج کی اس آیت کو پڑھنے یا سننے سے سجدہ ِ تلاوت واجب نہیں ہوتا کیونکہ 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۷۷، ۸/۲۵۴، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۷۷، ص۷۴۹-۷۵۰، ملتقطاً۔