Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
480 - 695
نبوت و رسالت کا منصب ختم فرما دیاہے لہٰذا ان کی تشریف آوری کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ اختتام پزیر ہو گیا اور اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آخری نبی ہونے کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: محمد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیںلیکن اللّٰہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللّٰہ سب کچھ جاننے والا ہے۔
	اور صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بنی اسرائیل میں انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حکومت کیا کرتے تھے،جب ایک نبی کا وصال ہوتا تو دوسرا نبی ان کا خلیفہ ہوتا، (لیکن یاد رکھو!) میرے بعد ہر گز کوئی نبی نہیں ہے،ہاں عنقریب خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے۔(2)
	اور سنن ترمذی میں حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’بے شک رسالت و نبوت ختم ہوگئی، تو میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ ہی نبی۔(3)
{یَعْلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ: وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ دنیا کے اُمور کو بھی جانتا ہے اور آخرت کے اُمور کو بھی، یااس سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ لوگوں کے گزرے ہوئے اعمال کو بھی جانتا ہے اور آئندہ کے احوال کا بھی علم رکھتا ہے۔(4)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارْکَعُوۡا وَاسْجُدُوۡا وَاعْبُدُوۡا رَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیۡرَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚٛ۷۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلے کام کرو اس امید پر کہ تمہیں چھٹکارا ہو۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…احزاب:۴۰۔
2…بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل، ۲/۴۶۱، الحدیث: ۳۴۵۵۔
3…ترمذی، کتاب الرؤیا عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، باب ذہبت النبوّۃ۔۔۔ الخ، ۴/۱۲۱، الحدیث: ۲۲۷۹۔
4…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۷۶، ص۷۴۹۔