Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
478 - 695
سے بت پرست اور چاہے ہوئے سے بت مراد ہے، یا چاہنے والے سے مکھی مراد ہے جو بت پر سے شہد و زعفران کی طالب ہے اور مطلوب سے بت مراد ہے، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ طالب سے بت مراد ہے اور مطلوب سے مکھی۔(1)
اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندے اس کی اجازت سے عاجز اور بے بس نہیں:
	یاد رہے کہ اس آیت کا تعلق اللّٰہ تعالیٰ کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے نہیں ہے، یہ عاجز اور بے بس نہیں بلکہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی اجازت اور قدرت سے مخلوق کو نفع پہنچانے اور ان سے نقصان دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں حتّٰی کہ ان میں سے بعض کو مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت بھی عطا ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ فرمان خود قرآنِ پاک میں موجود ہے کہ ’’وَرَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ ۬ۙ اَنِّیۡ قَدْ جِئْتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ ۚۙ اَنِّیۡۤ اَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡئَۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذْنِ اللہِۚ وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے جیسی ایک شکل بناتاہوں پھر اس میں پھونک ماروں گا تو وہ اللّٰہ کے حکم سے فوراً پرندہ بن جائے گی اور میں پیدائشی اندھوںکو اور کوڑھ کے مریضوں کو شفا دیتا ہوں اور میں اللّٰہ کے حکمسے مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔
 	یہ آیت بتوں کے بارے میں ہے اور اس میں ان کا عاجز اور بے بس ہونا بیان کیا گیا ہے اور اسے اللّٰہ تعالیٰ کے اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اَولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ پر چسپاں کرنا خارجیوں اور ان کی پیروی کرنے والوں کا کام ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا خارجیوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے بدتر قرار دیتے تھے اورفرماتے تھے کہ جوآیات کفارکے بارے میںنازل ہوئی ہیں یہ ان آیات کومومنین پرچسپاں کردیتے ہیں۔(3)
{مَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖ: انہوں نے اللّٰہ کی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کا حق ہے۔} ارشاد فرمایا کہ جنہوں نے عاجز و بے بس اور مکھی سے بھی کمزور بتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی ویسی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کا حق ہے اور اس کی عظمت نہ پہچانی، حقیقی معبود وہی ہے جو کامل قدرت رکھے اور بیشک اللّٰہ تعالیٰ قوت والا اورغلبے والا ہے۔(4)
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۷۳، ۳/۳۱۷۔
2…اٰل عمران:۴۹۔
3…بخاری،کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالہم،باب قتل الخوارج والملحدین بعد اقامۃ الحجّۃ علیہم، ۴/۳۸۰۔
4…مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۷۴۹۔