Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
473 - 695
{وَ اِنۡ جٰدَلُوۡکَ: اور اگر وہ تم سے جھگڑیں۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر حق ظاہر ہونے اور حجت لازم ہونے کے بعد بھی وہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ ان سے وعید کے طور پر فرما دیں کہ اللّٰہ تعالیٰ ان باطل کاموں کو خوب جانتا ہے جو تم کررہے ہو اور وہ تمہیں یہ کام کرنے کی سزا دے گا۔اللّٰہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے دن اس بات میں فیصلہ کردے گا جس میں تم اختلاف کررہے ہو، تو اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ہے۔(1)
ہر باتونی اورجھگڑالو سے مناظرہ نہیں کرنا چاہیے:
	اس سے معلوم ہوا کہ ہر باتونی اورجھگڑالو سے مناظرہ نہیں کرنا چاہیے اور یہ بات اس واقعے سے مزید مضبوط ہو جاتی ہے کہ جب شیطان نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ نہ کرنے پر دلائل پیش کئے تواللّٰہ تعالیٰ نے اس کے دلائل کا جواب نہ دیا بلکہ ا س سے فرمایا:
 ’’فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جنت سے نکل جا کیونکہ تو مردود ہے۔
	علامہ ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں اس آیت میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں کوبڑاعمدہ ادب سکھایاہے کہ جوشخص محض تَعَصُّب اورجھگڑاکرنے کے شوق میں تم سے مناظرہ کرناچاہے تواسے کوئی جواب نہ دواورنہ اس کے ساتھ مناظرہ کرو بلکہ اس کی تمام باتوں کے جواب میں صرف وہ بات کہہ دو جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسول کوسکھائی ہے۔(3)
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِؕ اِنَّ ذٰلِکَ فِیۡ کِتٰبٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیۡرٌ ﴿۷۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا تو نے نہ جانا کہ اللّٰہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بیشک یہ سب ایک کتاب میں
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹، ۶/۵۸، تفسیر کبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹، ۸/۲۴۹، ملتقطاً۔
2…حجر:۳۴۔
3…قرطبی، الحج، تحت الآیۃ: ۶۹، ۶/۷۲، الجزء الثانی عشر۔