ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیںاور یہ کہ اللّٰہ انہیں اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔
{وَ اَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ:اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ یہ دلائل ا س لئے ذکر کئے گئے تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ قیامت آنے والی ہے اور اس کے آنے میں کچھ شک نہیںاور یہ معلوم ہو جائے کہ اللّٰہ تعالیٰ ان مردوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں اور مرنے کے بعد اٹھایا جانا حق ہے۔(1)
خیال رہے کہ قبر سے مراد عالَمِ برزخ ہے جو موت اور حشر کے بیچ میں ہے،نہ کہ محض وہ غار جو مُردوں کا مَدفن ہو، لہٰذا جلنے والے، ڈوبنے والے وغیرہ سب ہی قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللہِ بِغَیۡرِ عِلْمٍ وَّ لَاہُدًی وَّ لَاکِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ۙ﴿۸﴾ ثَانِیَ عِطْفِہٖ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ لَہٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیۡقُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَذَابَ الْحَرِیۡقِ ﴿۹﴾ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰکَ وَ اَنَّ اللہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیۡدِ ﴿٪۱۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کوئی آدمی وہ ہے کہ اللّٰہ کے بارے میں یوں جھگڑتا ہے کہ نہ تو علم نہ کوئی دلیل اور نہ کوئی روشن نوشتہ۔ حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے تاکہ اللّٰہ کی راہ سے بہکادے اس کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے ۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللّٰہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کوئی آدمی وہ ہے جو اللّٰہ کے بارے میں بغیر علم اور بغیر ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑتا ہے ۔ اس حال میں کہ وہ حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے ہے تاکہ اللّٰہ کی راہ سے بھٹکا دے ،اس کے لیے دنیا میں رسوائی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۷، ۳/۳۰۰۔