Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
396 - 695
پیروی اور ا س سے دوستی کرے گا تو شیطان ضرور اسے جنت سے گمراہ کر دے گا اور اسے جہنم کے عذاب کی راہ بتائے گا۔(1)
بدمذہبوں سے دوستی اور تعلقات رکھنے کی ممانعت:
	اس آیت سے معلوم ہواکہ بدمذہبوں سے دوستی اور تعلق نہیں رکھنا چاہئے اور نہ ہی ان کے ساتھ رشتہ داری قائم کرنی چاہئے کیونکہ یہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور اپنی چکنی چپڑی باتوں ، ظاہری عبادت و ریاضت اور دکھلاوے کی پرہیز گاری کے ذریعے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ عنقریب میری امت کے آخر میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو تم سے ایسی باتیں کریں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہو گا اور نہ تمہارے باپ دادا نے، تو تم ان سے دور رہنا اور انہیں (خود سے) دور رکھنا۔(2)
	اسی کتاب کی دوسری روایت میں ہے ،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’آخری زمانے میں دَجّال اور کذّاب ظاہر ہوں گے ،وہ تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئیں گے جنہیں تم اور تمہارے باپ دادا نے نہ سنا ہو گا تو تم ان سے دور رہنا اور انہیں دور رکھنا، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔(3)
	بد مذہبوں سے دور رہنے اور انہیں خود سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ متعدد اَحادیث میں ان سے زندگی اور موت کے تمام تعلقات ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ  ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ، ان کے ساتھ پانی نہ پیو، ان کے پاس نہ بیٹھو ، ان سے رشتہ نہ کرو، وہ بیمار پڑیں تو پوچھنے نہ جاؤ، مر جائیں تو ان کی میت کے پاس نہ جاؤ، ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھواور نہ ہی ان کے ساتھ نماز پڑھو۔(4) اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۴، ۶/۴-۵، تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۴، ۸/۲۰۲، ملتقطاً۔
2…مسلم، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفائ۔۔۔ الخ، ص۹، الحدیث: ۶(۶)۔
3…مسلم، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفائ۔۔۔ الخ، ص۹، الحدیث: ۷(۷)۔
4…کنز العمال، کتاب الفضائل، الباب الثالث فی ذکر الصحابۃ وفضلہم۔۔۔الخ، الفصل الاول ، ۶/۲۴۶ ، الجزء الحادی عشر ، الحدیث : ۳۲۵۲۵ ،  ۳۲۵۲۶ ، تاریخ بغداد ، حرف الواو من آباء الحسینین ، ۴۲۴۰- الحسین بن الولید ۔۔۔ الخ ، ۸/۱۳۹، ملتقطاً۔