حدیث میں ہے ،رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا’’ شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کے شر سے اللّٰہ کی پناہ مانگ۔ حضرت ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی: کیا آدمیوں میں بھی شیطان ہیں؟ ارشاد فرمایا: ہاں۔(1)
ائمۂ دین فرمایا کرتے کہ شیطان آدمی شیطان جن سے سخت تر ہوتا ہے۔(2)
میں کہتا ہوں:اس آیت کریمہ میں ’’شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ‘‘ کومقدم کرنا بھی اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ شیطان آدمی شیطان جن سے سخت تر ہوتا ہے۔اس حدیث کریم نے کہ’’جب شیطان وسوسہ ڈالے اتنا کہہ کر الگ ہوجاؤ کہ تو جھوٹا ہے‘‘ دونوں قسم کے شیطانوں کا علاج فرما د یا، شیطان آدمی ہو خواہ جن اُس کا قابو اسی وقت چلتا ہے جب اس کی سنیں گے اور جب تنکا توڑ کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیں گے کہ’’ تو جھوٹا ہے‘‘ تو وہ خبیث اپنا سامنہ لے کر رہ جاتا ہے۔(3)
کُتِبَ عَلَیۡہِ اَنَّہٗ مَنۡ تَوَلَّاہُ فَاَنَّہٗ یُضِلُّہٗ وَ یَہۡدِیۡہِ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: جس پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کی دوستی کرے گا تو یہ ضرور اسے گمراہ کردے گا اور اسے عذابِ دوزخ کی راہ بتائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس پر یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس سے دوستی کرے گا تووہ ضرور اسے گمراہ کردے گا اور اسے جہنم کے عذاب کی راہ بتائے گا۔
{کُتِبَ عَلَیۡہِ:جس پر یہ لکھ دیا گیا ہے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ لوحِ محفوظ میں جِنّات اور انسانوں کے ہرسرکش شیطان کے متعلق لکھ دیاگیاہے کہ جو اس کی اطاعت اور ا س سے دوستی کرے گا تو شیطان ضرور اسے گمراہ کر دے گا اور اسے جہنم کے عذاب کا راستہ بتائے گا۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ لوحِ محفوظ میں اس شخص کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے جو شیطان کی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی ذر الغفاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ، ۸/۱۳۲، الحدیث: ۲۱۶۰۸۔
2…تفسیر طبری، الناس، تحت الآیۃ: ۴، ۱۲/۷۵۳۔
3…فتاوی رضویہ، ۱/۷۸۰-۷۸۱۔