ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ ان کا بدلہ ہے جہنم ،کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کو ہنسی مذاق بنالیا۔
{ذٰلِکَ جَزَآؤُہُمْ جَہَنَّمُ:یہ ان کا بدلہ جہنم ہے۔} ارشاد فرمایا کہ یہ جہنم ان کا بدلہ ہے کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور جس چیز پر ایمان لانا اور جس کا اقرار کرنا ضروری تھا اس کا انکار کیا اور انہوں نے قرآنِ پاک ، اللّٰہ تعالیٰ کی دیگر کتابوں اور اس کے رسولوں کو ہنسی مذاق بنالیا۔(1)اس سے معلوم ہوا کہ تمام کفر وں سے بڑھ کر کفر نبی کی توہین اور ان کا مذاق اڑانا ہے جس کی سزا دنیا و آخرت دونوں میں ملتی ہے۔
اہلِ حق علماء کا مذاق اڑانے والوں کو نصیحت:
حضرت علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یاد رکھو! علماء، انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں اور ان کے عُلوم انبیائِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علوم سے حاصل شدہ ہیں تو جس طرح باعمل علمائ، انبیاء اور مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اعمال اور علوم کے وارث ہیں اسی طرح علماء کا مذاق اڑانے والے ابو جہل ، عقبہ بن ابی معیط اور ان جیسے دیگر کافروں کے مذاق اڑانے میں وارث ہیں۔(2)اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنے کی شدید ضرورت ہے جو میڈیا پر اور اپنی نجی محفلوں میں اہلِ حق علمائے کرام کا مذاق اڑانے میں لگے رہتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں عقلِ سلیم عطا فرمائے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَہُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ﴿۱۰۷﴾ۙ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا لَا یَبْغُوۡنَ عَنْہَا حِوَلًا ﴿۱۰۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۵/۳۰۵۔
2…روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۵/۳۰۵۔