سنیں گے۔(1)
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا’’ جب جہنم میں وہ لوگ رہ جائیں گے جنہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے تو وہ آ گ کے تابوتوں میں بند کر دئیے جائیں گے، وہ تابوت دوسرے تابوتوں میں، پھر وہ تابوت اور تابوتوں میں بند کر دئیے جائیں گے اور ان تابوتوں پر آ گ کی میخیں لگادی جائیں گی تو وہ کچھ نہ سنیں گے اور نہ کوئی ان میں کسی کو دیکھے گا۔(2)
اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتْ لَہُمۡ مِّنَّا الْحُسْنٰۤیۙ اُولٰٓئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ۙ
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جہنم سے دُور رکھے گئے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک جن کے لیے ہمارا بھلائی کا وعدہ پہلے سے ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔
{اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتْ لَہُمۡ مِّنَّا الْحُسْنٰۤی:بیشک جن کے لیے ہمارا بھلائی کا وعدہ پہلے سے ہوچکا ہے ۔} شانِ نزول : رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک دن کعبہ معظمہ میں داخل ہوئے ، اس وقت قریش کے سردار حطیم میں موجود تھے اور کعبہ شریف کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے ۔ نضر بن حارثسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے آیا اور آپ سے کلام کرنے لگا ۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے جواب دے کرخاموش کر دیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی ’’اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تم اور جن کی تم اللّٰہ کے سوا عبادت کرتے ہو سب جہنم کے ایندھن ہیں۔
یہ فرما کر حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے آئے۔ پھر عبداللّٰہ بن زبعری سہمی آیا اور اسے ولید بن مغیرہ نے اس گفتگو کی خبر دی تو وہ کہنے لگا: خدا کی قسم !اگر میں ہوتا تو ان سے بحث مباحثہ کرتا۔ اس پر لوگوں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بلوا لیا ۔ ابنِ زبعری یہ کہنے لگا : آپ نے یہ فرمایا ہے کہ تم اور جو کچھ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا تم پوجتے
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ص۷۲۷، جلالین، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ص۲۷۷، ملتقطاً۔
2…خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۳/۲۹۶۔
3…انبیاء:۹۸۔