Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
357 - 695
رحمت میں داخل کیا بیشک وہ ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (یاد کرو) وہ سب صبر کرنے والے تھے۔ اور انہیں ہم نے اپنی رحمت میں داخل فرمایا، بیشک وہ ہمارے قربِ خاص کے لائق لوگوں میں سے ہیں۔
{وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِدْرِیۡسَ وَ ذَا الْکِفْلِ:اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (یاد کرو)۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ حضرت اسماعیل ، حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو یاد کریں، وہ سب عبادات کی مشقتوں اور آفات و بَلِیّات کو برداشت کرنے پر کامل صبر کرنے والے تھے ۔ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے ذبح کئے جانے کے وقت صبر کیا، غیرآباد بیابان میں ٹھہرنے پر صبر کیا اور اس کے صِلے میں اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں یہ مقام عطا کیا کہ ان کی نسل سے اپنے حبیب اور آخری نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ظاہر فرمایا۔ حضرت ادریس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے درس دینے پر صبر کیا اور حضرت ذوالکفل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دن کاروزہ رکھنے ،رات کوقیام کرنے اور اپنے دورِ حکومت میں لوگوں کی طرف سے دی گئی تکلیفوں پرصبرکیا۔
	اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اوراس کی نافرمانی سے بچنے پر صبر کرے ، یونہی جو شخص اپنے مال،اہل اور جان میں آنے والی کسی مصیبت پر صبر کرے تو وہ اپنے صبر کی مقدارکے مطابق نعمت،رتبہ اور مقام پاتا ہے اور اسی حساب سے و ہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کا حق دار ہوتا ہے۔(1)
حضرت ذوالکفل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی تھے یا نہیں؟
	 حضرت ذوالکفلعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت میں اختلاف ہے ،جمہور علماء کے نزدیک آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی نبی تھے۔(2)
وَذَا النُّوۡنِ اِذۡ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقْدِرَ عَلَیۡہِ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۵، ۵/۵۱۵۔
2…تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۵، ۸/۱۷۷۔