اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہ ہوگا۔(1)
(2)…حضرت ابو ذررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’دنیا سے بے رغبتی صرف حلال کو حرام کر دینے اور مال کو ضائع کردینے کا ہی نام نہیں،بلکہ دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے وہ اس سے زیادہ قابلِ اعتماد نہ ہو جو اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے اور جب تجھے کوئی مصیبت پہنچے تواس کے ثواب (کے حصول) میں زیادہ رغبت رکھے اور یہ تمنا ہو کہ کاش یہ میرے لئے باقی رہتی۔(2)
(3)…سنن ابو داؤد میں ہے، حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’جب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بندے کے لیے کوئی درجہ مقدر ہوچکا ہو جہاں تک یہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتاتو اللّٰہ تعالیٰ اسے اس کے جسم یا مال یا اولاد کی آفت میں مبتلا کردیتا ہے، پھر اسے اس پر صبر بھی دیتا ہے حتّٰی کہ وہ اس درجے تک پہنچ جاتا ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے مقدر ہوچکا۔(3)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں آفات وبَلِیّات سے محفوظ فرمائے اور ہر آنے والی مصیبت پر صبر کر کے اجر وثواب کمانے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِدْرِیۡسَ وَ ذَا الْکِفْلِ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۸۵﴾ۚۖ وَ اَدْخَلْنٰہُمْ فِیۡ رَحْمَتِنَا ؕ اِنَّہُمۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۸۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو وہ سب صبر والے تھے ۔ اور انہیں ہم نے اپنی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴/۱۷۹، الحدیث: ۲۴۰۷۔
2…ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الزہادۃ فی الدنیا، ۴/۱۵۲، الحدیث: ۲۳۴۷۔
3…ابوداؤد، کتاب الجنائز، باب الامراض المکفّرۃ للذنوب، ۳/۲۴۶، الحدیث: ۳۰۹۰۔