آیت’’فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَنَجَّیۡنٰہُ ‘‘سے دعا کے بارے میں معلوم ہونے والے دو اَحکام :
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
(1)…جب دعا دل کے اخلاص کے ساتھ ہو جیسے انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی دعا، تو وہ قبول ہوتی ہے ۔لہٰذا جب بھی دعا مانگیں تو دل کے اخلاص اور پوری توجہ کے ساتھ مانگیں تاکہ اسے قبولیت حاصل ہو۔
(2)…دعا نجات کے اسباب میں سے ایک سبب ہے اور اسے اختیار کرنا نجات حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔
وَ دَاوٗدَ وَسُلَیۡمٰنَ اِذْ یَحْکُمَانِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیۡہِ غَنَمُ الْقَوْمِۚ وَکُنَّا لِحُکْمِہِمْ شٰہِدِیۡنَ ﴿٭ۙ۷۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب وہ دونوں کھیتی کے بارے میں فیصلہ کررہے تھے جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹ گئیں اور ہم ان کے فیصلے کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
{وَ دَاوٗدَ وَسُلَیۡمٰنَ:اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو۔} یہاں سے پانچواں واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جس میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ذکر ہے، چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کے پہلے حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وہ واقعہ یاد کریں جب وہ دونوں کھیتی کے بارے میں فیصلہ کررہے تھے۔ جب رات کے وقت کچھ لوگوں کی بکریاں کھیتی میں چھوٹ گئیں، ان کے ساتھ کوئی چَرانے والا نہ تھا اور وہ کھیتی کھا گئیں تو یہ مقدمہ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے پیش ہوا، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تجویز کی کہ بکریاں کھیتی والے کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کی قیمت کھیتی کے نقصان کے برابر ہے اور ہم ان کے فیصلے کا مشاہدہ کر رہے تھے اور ہم نے وہ معاملہ حضرت سلیمان