حضرت عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اچھا سوال کرنا نصف علم ہے۔(1)
دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں زندگی کے تمام پہلوؤں میں در پیش معاملات کے بارے میں اہلِ علم سے سوال کرنے اور اس کے ذریعے دین کے شرعی اَحکام کا علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
وَمَا جَعَلْنٰہُمْ جَسَدًا لَّا یَاۡکُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَمَا کَانُوۡا خٰلِدِیۡنَ ﴿۸﴾ ثُمَّ صَدَقْنٰہُمُ الْوَعْدَ فَاَنۡجَیۡنٰہُمْ وَمَنۡ نَّشَآءُ وَاَہۡلَکْنَا الْمُسْرِفِیۡنَ ﴿۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے انہیں خالی بدن نہ بنایا کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں۔ پھر ہم نے اپنا وعدہ انہیں سچا کر دکھایا تو انہیں نجات دی اور جن کو چاہی اور حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کردیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے انہیں کوئی ایسے بدن نہ بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے والے تھے۔ پھر ہم نے اپنا وعدہ انہیں سچا کر دکھایا تو ہم نے انہیں اور جن کو چاہا نجات دی اور حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کردیا۔
{وَمَا جَعَلْنٰہُمْ جَسَدًا:اور ہم نے انہیں خالی بدن نہ بنایا۔} کفارِ مکہ نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرایک اعتراض یہ کیا تھا کہ:
’’مَالِ ہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس رسول کو کیا ہوا؟ کہ یہ کھانا بھی کھاتا ہے۔
اوریہاں اِس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کاطریقہ یہی جاری ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں جتنے بھی رسول بھیجے ان کے بدن ایسے نہیں بنائے تھے جو کھانے پینے سے بے نیاز ہوں بلکہ ان کے بدن بھی ایسے ہی بنائے تھے جنہیں کھانے پینے کی حاجت ہو، یونہی وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے والے نہ تھے بلکہ عمر پوری
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۵/۱۰۸، الحدیث: ۶۷۴۴۔
2…فرقان:۷۔