Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
253 - 695
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھنے والاتھا؟  
{وَمَنْ اَعْرَضَ عَنۡ ذِکْرِیۡ:اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا ۔} اس آیت میں ذکر سے مراد قرآنِ مجید پر ایمان لانا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ دلائل ہیں جنہیں اسلام کی حقانیت کے ثبوت کے طور پر نازل کیا گیا ہے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ذکر سے سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مقدس ذات مراد ہو کیونکہ ذکر آپ ہی سے حاصل ہوتا ہے اور تنگ زندگی گزارنے کے مقام کے بارے میں مفسرین کے 5 اَقوال درج ذیل ہیں:
(1)…دنیا میں تنگ زندگی ہے۔ دنیا کی تنگ زندگی یہ ہے کہ بندہ ہدایت کی پیروی نہ کرے، برے عمل اور حرام فعل میں مبتلا ہو، قناعت سے محروم ہو کر حرص میں گرفتار ہو جائے اور مال و اَسباب کی کثرت کے باوجود بھی اس کو دل کی فراخی اور سکون مُیَسَّر نہ ہو ، دل ہر چیز کی طلب میں اور حرص کے غموں سے آوارہ ہو کہ یہ نہیں وہ نہیں، حال تاریک اور وقت خراب رہے اور توکّل کرنے والے مومن کی طرح اس کو سکون و فراغ حاصل ہی نہ ہو جسے حیاتِ طیّبہ یعنی پاکیزہ زندگی کہتے ہیں۔
(2)…قبر میں تنگ زندگی ہے۔ قبر کی تنگ زندگی یہ ہے کہ قبر میں عذاب دیا جائے ۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا ’’یہ آیت اسود بن عبد العزیٰ مخزومی کے حق میں نازل ہوئی اور قبر کی تنگ زندگی سے مراد قبر کا اِس سختی سے دبانا ہے جس سے ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف آ جاتی ہیں۔
	حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا’’کیا تم جانتے ہوکہ معیشت ِضَنک کیا ہے؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کارسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’یہ قبر میں کافر کا عذاب ہے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کافر پر ننانوے تنین مُسلَّط کئے جائیں گے کیا تم جانتے ہو کہ تنین کیا ہیں ؟ وہ ننانوے سانپ ہیں ہرسانپ کے سات پھن ہیں وہ اس کے جسم میں پھونکیں ماریں گے اور قیامت تک اس کو ڈستے اور نوچتے رہیں گے۔(1)
(3)… آخرت میں تنگ زندگی ہے۔ آخرت میں تنگ زندگی جہنم کے عذاب میں مبتلا ہونا ہے، جہاں تھوہڑ، کھولتا پانی ، 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…مسند ابی یعلی، مسند ابی ہریرۃ، شہر بن حوشب عن ابی ہریرۃ، ۵/۵۰۸، الحدیث: ۶۶۱۳۔