ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا تو مجھے قسم ہے میں ضرورتمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی دیدوںگااور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب زیادہ شدید اورزیادہ باقی رہنے والاہے ۔
{قَالَ اٰمَنۡتُمْ لَہٗ:فرعون بولا: کیا تم اس پر ایمان لائے۔} فرعون نے جادو گروں کے ایمان لانے کا منظر دیکھ کرانہیں ڈانٹتے ہوئے کہا: کیا تم میری اجازت ملنے سے پہلے ہی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ایمان لے آئے ہو! بیشک وہ جادو میں استادِ کامل اور تم سب سے فائق ہے اور اس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے ، (اور سورۂ اَعراف میں یہ بھی ہے کہ فرعون نے کہا کہ یہ تم سب کی سازش ہے جو تم نے میرے خلاف بنائی ہے تاکہ یہاں کے رہنے والوں کو اِس سرزمین سے نکال دو) تو مجھے قسم ہے، میں ضرور تمہارے دائیں طرف کے ہاتھ اور بائیں طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی دیدوں گا اور اس وقت ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب زیادہ شدید اور زیادہ باقی رہنے والاہے ۔اس سے فرعون ملعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب سخت تر ہے یا ربُّ العالَمین کا عذاب زیادہ سخت ہے۔
قَالُوۡا لَنۡ نُّؤْثِرَکَ عَلٰی مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیۡ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنۡتَ قَاضٍ ؕ اِنَّمَا تَقْضِیۡ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ﴿ؕ۷۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولے ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ہمیں اپنے پیدا کرنے والے کی قسم تو تُو کر چُک جو تجھے کرنا ہے تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: انہوں نے کہا: ہم ان روشن دلیلوں پر ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے جو ہمارے پاس آئی ہیں۔ ہمیں اپنے پیدا کرنے والے کی قسم ! تو تُوجو کرنے والا ہے کر لے۔ تو اس دنیا کی زندگی میں ہی توکرے گا ۔
{قَالُوۡا:انہوں نے کہا۔} فرعون کا یہ مُتکبّرانہ کلمہ سن کر ان جادوگروں نے کہا: ہم ان روشن دلیلوں پر ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے جو ہمارے پاس آئی ہیں۔ روشن دلیلوں کے بارے میں مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک