اس وقت حضرت ہارونعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممصر میں تھے، اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حکم دیا کہ وہ حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آئیں اور حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو وحی کی کہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملیں، چنانچہ وہ ایک منزل (یعنی تقریباً 18 میل) چل کر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملے اور جو وحی انہیں ہوئی تھی اس کی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اطلاع دی ۔فرعون چونکہ ایک ظالم وجابر شخص تھا اس لیے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عرض کی: اے ہمارے رب! بیشک ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہمیں رسالت کی تبلیغ کرنے سے پہلے ہی قتل کر کے ہم پر زیادتی کرے گایا مزید سرکشی پر اتر آئے گا اور تیری شان میں نازیبا کلمات کہنے لگے گا۔(1)
مخلوق سے اِیذا کا خوف توکّل کے خلاف نہیں:
اس سے معلوم ہوا کہ اَسباب ، مُوذی انسان اور موذی جانوروں سے خوف کرنا شانِ نبوت اور توکل کے خلاف نہیں۔ وہ جو کثیر آیتوں میں ’’لَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ‘‘فرمایا گیا ہے ،وہ اس کے خلاف نہیں کیونکہ ان آیات میں خوف نہ ہونے سے مراد قیامت کے دن خوف نہ ہونا ہے ،یااِس سے اُس خوف کا نہ ہونا مراد ہے جو نقصان دِہ ہو اور خالق سے دور کردے، جبکہ انہیں مخلوق کی طرف سے ایذاء پہنچنے کا خوف ہو سکتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں ایک حکایت ملاحظہ ہو، چنانچہ کسی شخص نے حضر ت حسن بصری رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے کہا کہ عامر بن عبداللّٰہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک مرتبہ شام کی طرف جا رہے تھے کہ ان کو پیاس لگی اور وہ ایک جگہ پانی پیناچاہتے تھے مگر پانی اور ان کے درمیان ایک شیر حائل تھا وہ پانی کی طرف گئے اور پانی پی لیا تو ان سے کسی نے کہا کہ آپ نے اپنی جان خطرہ میں ڈالی تو عامر بن عبداللّٰہنے کہا کہ اگر میرے پیٹ میں نیزے گھونپ دئیے جائیں تووہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہیں کہ میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی سے ڈروں۔ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس شخص کوجواب دیا کہ جوشخص عامر بن عبداللّٰہ سے بہت افضل تھے وہ تواللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے غیر سے ڈرے تھے اور وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں۔(2)
مراد یہ ہے کہ خوفِ خدا کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی دُنْیَوی مُوذی اَشیاء سے بھی نہ ڈرے ، اگر یہ مطلب ہوتا تو
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۴۵، ۳/۲۵۵، روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۴۵، ۵/۳۹۰، ملتقطاً۔
2…قرطبی، طہ، تحت الآیۃ: ۴۶، ۶/۹۹، الجزء الحادی عشر۔