Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
188 - 695
میں جہاں بھی وحی کا لفظ غیر نبی کے لئے آیا ہے وہاں اس سے ’’ اِلہام کرنا‘‘ مراد ہو تا ہے۔
اَنِ اقْذِفِیۡہِ فِی التَّابُوۡتِ فَاقْذِفِیۡہِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاۡخُذْہُ عَدُوٌّ لِّیۡ وَعَدُوٌّ لَّہٗ ؕ وَ اَلْقَیۡتُ عَلَیۡکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیۡ ۬ۚ وَلِتُصْنَعَ عَلٰی عَیۡنِیۡ ﴿ۘ۳۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے تو دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھا لے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے پھردریا اسے کنارے پر ڈال دے گاتا کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن ہے اور اس کا (بھی) دشمن ہے اور میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈالی اورتاکہ میری نگاہ کے سامنے تمہاری پرورش کی جائے۔
{وَ اَلْقَیۡتُ عَلَیۡکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیۡ:اور میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈالی۔} حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اپنا محبوب بنایا اور مخلوق کا محبوب کر دیا۔‘‘ اور جسے اللّٰہ تعالیٰ اپنی محبوبیت سے نوازتا ہے تودلوں میں اس کی محبت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا، یہی حال حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تھا کہ جو آپ کو دیکھتا تھا اسی کے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو جاتی تھی ۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آنکھوں میں ایسی مَلاحت تھی جسے دیکھ کر ہر دیکھنے والے کے دل میں محبت جوش مارنے لگتی تھی۔(1)
	اس سے معلوم ہوا کہ محبوبیت و مقبولیت ِخَلق بھی بعض انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ ہے۔ ہمارے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہمیشہ مخلوق کے محبوب ہیں اور یہ محبوبیت بھی حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳/۲۵۳، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۶۹۱، ملتقطاً۔