Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
15 - 695
آیت’’فَاَرَدْنَاۤ اَنۡ یُّبْدِلَہُمَا رَبُّہُمَا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
(1)… بندے کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قضا پر راضی رہنا چاہئے کہ اسی میں بہتری ہوتی ہے۔ اسی بات کو ایک اور آیتِ مبارکہ میں اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ
’’وَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْۚ وَعَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْؕ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں ناپسند ہو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللّٰہ  جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ 
(2)… بسا اوقات اللّٰہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی محبوب اور پسندیدہ چیزوںمیں سے کوئی چیز لے لیتا ہے کیونکہ اس چیز میں بندے کا نقصان ہوتا ہے اور وہ اس کے نقصان سے غافل ہوتا ہے، پھر اگر وہ صبر کرے اور اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے تو اللّٰہ تعالیٰ اس چیز کے بدلے اس سے بہتر چیز عطا کر دیتا ہے جس میں مومن بندے کا نفع ہوتا ہے نقصان نہیں ہوتا اور یہ اللّٰہ تعالیٰ کا اپنے مومن بندوں پر ایک بہت بڑا احسان ہے۔(2)
وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الْمَدِیۡنَۃِ وَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحْمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِیۡ ؕ ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا لَمْ تَسْطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبْرًا ﴿ؕ٪۸۲﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بقرہ:۲۱۶۔
2…روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۱، ۵/۲۸۶، ملخصاً۔