Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
14 - 695
کرتے ہوئے حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا تھا، اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ بڑا ہوکر انہیں بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا اور وہ اس لڑکے کی محبت میں دین سے پھر جائیں اور گمراہ ہوجائیں گے، اس لئے ہم نے چاہا کہ ان کا رب عَزَّوَجَلَّ اس لڑکے سے بہتر ،گناہوں اور نجاستوں سے پاک اور ستھرا اور پہلے سے زیادہ اچھا لڑکا عطا فرمائے جو والدین کے ساتھ ادب سے پیش آئے، ان سے حسنِ سلوک کرے اور ان سے دلی محبت رکھتا ہو۔(1)
	یاد رہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ اندیشہ اس سبب سے تھا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے خبر دینے کی وجہ سے اس لڑکے کے باطنی حال کو جانتے تھے۔(2)مسلم شریف میںحضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس لڑکے کو حضرت خضر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قتل کر دیا تھا وہ  کافر ہی پیدا ہوا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو کفر اور سرکشی میں مبتلا کر دیتا۔(3)
باطن کا حال جان کر کسی کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ 
	یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے زمانے میں اگر کوئی ولی کسی کے ایسے باطنی حال پر مطلع ہوجائے کہ یہ آگے جا کر کفر اختیار کر لے گا اور دوسروں کو کافر بھی بنا دے گا اور اس کی موت بھی حالتِ کفر میں ہوگی تو وہ ولی اس بنا پر اسے قتل نہیں کر سکتا، جیسا کہ امام سُبکیرَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ باطن کاحال جان کر بچے کو قتل کردینا حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص ہے، انہیں اس کی اجازت تھی ۔اب اگر کوئی ولی کسی بچے کے ایسے حال پر مطلع ہو تو اُس کے لئے قتل کرنا جائز نہیں ہے۔(4)
{خَیۡرًا مِّنْہُ زَکٰوۃً:پاکیزگی میں پہلے سے بہتر۔} مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں اس کے بدلے ایک مسلمان لڑکا عطا کیا اور ایک قول یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹی عطا کی جو ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام کے نکاح میں آئی اور اس سے نبی عَلَیْہِ السَّلَام پیدا ہوئے جن کے ہاتھ پر اللّٰہ تعالیٰ نے ایک اُمت کو ہدایت دی۔(5)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۰-۸۱، ۵/۲۸۵، خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۰-۸۱، ۳/۲۲۱، ملتقطاً۔
2…جمل، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۰، ۴/۴۴۷۔
3…مسلم، کتاب القدر، باب کلّ مولود یولد علی الفطرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۴۳۰، الحدیث: ۲۹(۲۶۶۱)۔
4…جمل، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۰، ۴/۴۴۸۔
5…خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۱، ۳/۲۲۱۔