Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
146 - 695
{وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ:اور باقی رہنے والی نیک باتیں۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، باقی رہنے والی نیک باتیں آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ثواب کے اعتبار سے بہتر اور انجام کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہیں جبکہ کفار کے اعمال سب نکمے اور باطل ہیں۔
باقی رہنے والی نیک باتیں:
	 مفسرین فرماتے ہیں کہ طاعتیں ، آخرت کے تمام اَعمال ، پنجگانہ نمازیں ، اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید اور اس کا ذکر اور دیگر تمام نیک اعمال یہ سب باقیاتِ صالحات ہیں کہ مومن کے لئے باقی رہتے ہیں اور کام آتے ہیں ،اسی طرح ہر وہ نیکی جو دنیا میں برباد نہ ہو جائے وہ باقیاتِ صالحات میں داخل ہے۔(1)
	یہاں باقیات صالحات سے متعلق ایک حدیث پاک ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُْ فرماتے ہیں: نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک دن تشریف فرما تھے، آپ نے ایک خشک لکڑی لے کر درخت کے پتے گرائے ، پھر فرمایا ’’لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْوَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ ‘‘کہنے سے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں۔ اے ابودرداء! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، اس سے پہلے کہ تمہارے اور ان کلمات کے درمیان کوئی چیز (یعنی موت )حائل ہوجائے تم ان کلمات کو یاد کرلو یہ باقیاتِ صالحات ہیں اور یہ جنت کے خزانوں میں سے ہیں۔(2)
اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُوۡتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ؕ۷۷﴾ اَطَّلَعَ الْغَیۡبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحْمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۙ۷۸﴾ کَلَّا ؕ سَنَکْتُبُ مَا یَقُوۡلُ وَنَمُدُّ لَہٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا ﴿ۙ۷۹﴾ وَّ نَرِثُہٗ مَا یَقُوۡلُ وَیَاۡتِیۡنَا فَرْدًا ﴿۸۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۷۶، ۳/۲۴۵، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۷۶، ص۶۸۲، ملتقطاً۔
2…ابن عساکر، حرف العین، عویمر بن زید بن قیس۔۔۔ الخ، ۴۷/۱۵۰۔