کوئی تعلق نہیں بلکہ جو آدمی کسی چیز سے ڈرتا ہے وہ اس سے بھاگتا ہے اور جو شخص کسی چیز کی امید رکھتا ہے وہ اسے طلب کرتا ہے ،تو تجھے وہی خوف نجات دے گا جو اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روکے اور اس کی اطاعت پر آمادہ کرے۔ نیزعورتوں کی طرح دل نرم ہونے سے بھی بڑھ کر بے وقوفوں کا خوف ہے کہ جب وہ ہَولناک مَناظِر کے بارے میں سنتے ہیں تو فوراً ان کی زبان پر اِستعاذہ (یعنی اَعُوْذُ بِاللّٰہ)جاری ہوتا ہے اور وہ کہتے ہیں میں اللّٰہ تعالیٰ کی مدد چاہتا ہوں، اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔ یااللّٰہ! بچالینا، بچالینا۔ اس کے باوجود وہ گناہوں پر ڈٹے رہتے ہیں جو ان کی ہلاکت کا باعث ہیں۔ شیطان ان کے پناہ مانگنے پر ہنستا ہے جس طرح وہ اس آدمی پر ہنستا ہے جسے صحرا میں کوئی درندہ پھاڑنا چاہتا ہو اور اس کے پیچھے ایک قلعہ ہو ،جب وہ دور سے درندے کی داڑھوں اور اس کے حملہ کرنے کو دیکھے تو زبان سے کہنے لگے کہ میں اس مضبوط قلعے میں پناہ لیتا ہوں اور اس کی مضبوط دیواروں اور سخت عمارت کی مدد چاہتا ہوں اور وہ یہ کلمات اپنی جگہ بیٹھے ہوئے صرف زبان سے کہتا رہے تو یہ بات کس طرح اسے درندے سے بجائے گی…؟ تو آخرت کا بھی یہی حال ہے کہ اس کا قلعہ صرف سچے دل سے ’’لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ کہنا ہے اور سچائی کا معنی یہ ہے کہ اس کا مقصود صرف اللّٰہ تعالیٰ ہو اور اس کے علاوہ کوئی مقصود و معبود نہ ہو، اور جو شخص اپنی خواہش کو معبود بنالیتا ہے تو وہ توحید میں سچائی سے دور ہوتا ہے اور اس کا معاملہ خود خطرناک ہے۔ اگر تم ان باتوں سے عاجز ہو تو اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت کرنے والے بن جاؤ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت کی تعظیم کے حریص ہوجاؤ۔ امت کے نیک لوگوںکے دلوں کی رعایت کا شوق رکھنے والے ہوجاؤ اور ان کی دعاؤں سے برکت حاصل کرو تو ممکن ہے کہ تمہیں نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور ان نیک لوگوں کی شفاعت سے حصہ ملے اور اس وجہ سے تم نجات پاجاؤ اگرچہ تمہاری پونجی کم ہو۔(1)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں اور انہی کے الفاظ میں ہم بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض گزار ہیں کہ
یا الٰہی جب چلوں تاریک راہِ پل صراط آفتابِ ہاشمی نورُالہُدیٰ کا ساتھ ہو
یا الٰہی جب سرِ شمشیر پر چلنا پڑے رَبِّ سَلِّمْ کہنے والے غمزُدا کا ساتھ ہو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، الشطر الثانی، صفۃ الصراط، ۵/۲۸۶-۲۸۷۔